شعبہ تعلیم کیلئے نوید …

کرنل (ر) اکرام اللہ ـ 2 جون ، 2009
کرنل (ر) اکرام اللہ
گذشتہ چار دہائیوں کے دوران میں نے جتنے ’’پری بجٹ، اور ’’پوسٹ بجٹ،، سیمیناروں میں شرکت کی ہے شاید ہی کوئی ایک اس حد قومی مقاصد اور خصوصی طور پر معاشی و اقتصادی مسائل کی نشاندہی کرنے میں کامیابی حاصل کر سکا ہو جتنا گذشتہ ہفتہ کے روز ’’دی نیشن،، کے زیر اہتمام لاہور میں منعقد ہونے والے ملکی ’’اکانومی کو درپیش چیلنجز،، کے موضوع پر پری بجٹ سیمینار 2009-2010ء نے حاصل کی۔ جس کے لئے میں محترمی مجید نظامی اور محترمی عارف نظامی دونوں کو اس گراں قدر قومی خدمت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس تاریخی سیمینار کی تفصیلی رپورٹ تمام قومی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ تاریخی اس لئے کہ جس قومی علاقائی اور بین الاقوامی پس منظر میں یہ سیمینار منعقد ہوا اس کی مثال نہیں ملتی ایک ایسے لمحہ پر جب قوم اپنی تاریخ کے سنگین ترین بحران سے گزر رہی ہے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ جرأت کے ساتھ قوم اور دنیا کے سامنے پیش کرنا آسان کام نہیں ہے اور ایسی بے باک حق گوئی کا اعزاز اللہ تعالیٰ نے قائد اعظمؒ کے بعد نظامی خاندان کو ہی عطا کیا ہے حمید نظامی مرحوم نے قوم کو نہ صرف ’’نوائے وقت،، کا انمول تحفہ دیا بلکہ اپنی جان کا نذرانہ بھی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتے ہوئے پیش کر دیا۔ مجید نظامی نے اس روایت کو اور آگے بڑھایا جب صدر جنرل ضیاء الحق نے بھارت کے دورے پر ساتھ جانے کی دعوت دی تو برملا کہا ’’اگر ٹینک پر بیٹھ
کر جانا ہے تو تیار ہوں،، جب مئی 1998ء میں مشیروں، وزیروں، شزیروں نے بیرونی دباؤ پر وزیر اعظم نواز شریف کو بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکہ سے روکنے کی کوشش کی تو مجید نظامی نے تاریخی مشورہ دیا ’’اگر آپ نے دھماکہ نہ کیا تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی،،۔
یہ مثالیں اس لئے دی ہیں کہ ’’نوائے وقت،، اور ’’دی نیشن،، نے پاکستان کے قومی مفاد کو دیگر ہر سوچ اور پالیسی پر ترجیح دی ہے اور ہفتہ کے روز منعقد ہونے والا سیمینار بھی اس سوچ کی عکاسی کرتا تھا جس میں ’’دی نیشن،، کے مدیر اور ’’نوائے وقت،، کے ایگزیکٹو ایڈیٹر جناب عارف نظامی نے اپنے اختتامی خطاب میں تفصیلاً ذکر کیا جو اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ میں پاکستان نیشنل فورم، ابنِ سینا ایجوکیشن موومنٹ، پنجاب یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اورخصوصاً پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران وائس چانسلر کی طرف سے اس سیمینار کے مقررین کے انتخاب، خطابات کی اعلیٰ کوالٹی، معیشت کی ہر جہت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اقتصادی ماہرین کی سوچ کو سیمینار میں شامل کرنے پر جناب عارف نظامی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
میں کئی سالوں سے ہر لیول پر عاجزانہ درخواست
کرتا رہتا ہوں کہ اگر حکومت (گذشتہ اور موجودہ) اپنے اس دعویٰ میں مخلص ہے کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواندگی کے معیار کو 80 فیصد سے اوپر لے جانا ہے اور اعلیٰ تعلیم میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا ہے تو یہ کٹھن منزل جی ڈی پی کے ایک فیصد، ڈیڑھ فیصد اور 60 سالوں کے بعد دو فیصد عطا کرنے سے حاصل نہیں ہو گی مشیرِ خزانہ شوکت ترین کے مطابق موجودہ دو فیصد بجٹ ایجوکیشن صحت اور تعلیم ملا کر ہے۔ یہ عملی طرزِ حکومت یا اپنے سیاسی بیانات اور عملی کارکردگی میں تضاد قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے، ہے تو دراصل بہت بڑا فراڈ لیکن یہ سخت الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز ہی بہتر ہے لیکن اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہونے کیلئے جناب عارف نظامی کی اجازت اور مہربانی سے میں نے دو ٹوک الفاظ میں صورتِ احوال جناب شوکت ترین کے سامنے دورانِ سیمینار اور بعد میں کھانے کے دوران زیادہ تفصیل سے بیان کر دی جس پر مشیرِ خزانہ نے اپنی تقریر میں مجھے یقین دلایا کہ ’’بجٹ آنے دیں، آپ کی خواہش ایک قومی فریضہ ہے۔ حکومت اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے سنجیدہ اور مخلص ہے،،۔ یہ قوم کے لئے سیمینار کی سب سے بڑی نوید ہے۔ اس کا امتحان 13 جون ہو جائیگا اگر نتیجہ تسلی بخش نہ ہوا تو 18 جون کو شوکت ترین صاحب سے جواب طلبی کریں گے انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان نیشنل فورم کے 18 جون کے پوسٹ بجٹ سیمینار میں لاہور آ کر شرکت فرمائیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں