یہ جنگی حکمت عملیاں
عطاء الرحمن ـ 2 جون ، 2009
گزشتہ 60 سال کے دوران ہم نے مختلف جنگی حکمت عملیاں اپنائیں جو ملکی حالات پر اتنی غالب آگئیں کہ پاکستان کی سیاست فوجی قیادت کے تابع ہوکر رہ گئی۔ آج بھی کم وپیش یہی صورت حال ہے۔ اگرچہ لمحہ موجود کا اقتدار سیاست دانوں کے پاس ہے۔ وہ منتخب بھی ہیں لیکن زمام کارکس کے ہاتھ میں ہے‘ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ان دنوں بھی مملکت پاکستان پر ایک بڑی جنگی حکمت عملی کا تسلط ہے۔ سیاست اس کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چل رہی ہے۔ گاڑی ابھی تک گھوڑے کے آگے بندھی ہوئی ہے۔ اصل حکمران منتخب پارلیمنٹ کی بجائے وہ اسٹیبلشمنٹ ہے جس میں فیصلہ کن حیثیت ہماری جنگی حکمت عملیاں وضع اور مسلط کرنے والوں کو حاصل ہے۔ جب تک اس صورتحال کی مکمل اصلاح نہیں ہوجاتی قائد اعظمؒ کا تصوراتی پاکستان وجود میں نہیں آسکتا کیونکہ وہ منتخب پارلیمنٹ کو اصولی اور عملی دونوں لحاظ سے کسی بھی دوسرے ریاستی ا دارے پر غالب دیکھنا چاہتے تھے۔ آج بھی ہمارے مسائل کی جڑیں اس نقص میں پائی جاتی ہیں۔ یہ امر بلاوجہ نہیں کہ 18 فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد سیاسی حکومت تو قائم ہوگئی لیکن عدلیہ کو اپنی اصل ا ور آزاد پوزیشن پر واپس لانے کیلئے لانگ مارچ برپا کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں سب کچھ الٹ پلٹ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تب یاروں کو ہوش آیا۔ لیکن سترھویں آئینی ترمیم ابھی تک باقی ہے۔ یہ جتنی صدر مملکت کو پیاری ہے اتنی ہی اسٹیبلشمنٹ کو۔ کیونکہ اسی کے ذریعے انہیں منتخب حکومت سے فیصلے منوانے کا دستوری راستہ ملتا ہے۔
جن جنگی حکمت عملیوں کو ہم نے بڑے جوش و خروش اور فوجی دلائل کی قوت کے ساتھ اپنایا ان میں سب سے پہلی یہ تھی۔ مشرقی پاکستان کا دفاع بھی مغربی پاکستان سے کیا جائے گا چنانچہ فوج میں سب سے زیادہ بھرتی بھی مغربی حصے سے کی گئی۔ اس کے اہم ترین مراکز بھی نہیں قائم کئے گئے۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں میں یہ احساس جاگزیں ہو گیا فوج مغربی پاکستان والوں یا پنجاب کی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان اس حکمت عملی کا اس وقت ہوا۔ جب بھارت کے ساتھ 1965ء اور 1971ء کی جنگیں لڑی گئیں۔ جنگ ستمبر نے مشرقی بازو کے اندر احساس محرومی پیدا کیا۔ اس نے شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات کو جنم دیا۔1970ء کے انتخابات میں عوامی لیگ غیر معمولی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی۔ فوجی حکومت کے ساتھ ٹکر ہوئی۔ آپریشن شروع ہوا جو بھارت کے ساتھ جنگ پر منتج ہوا۔ اس دوران ہمیں معلوم ہوا مغربی پاکستان سے مزید فوج اور ضروری اسلحے کی رسد برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ کیونکہ بھارت نے ہوائی راستہ بند کر دیا تھا۔ پھر کیا ہوا یہاں دھرانے کی ضرورت نہیں ہمارے دل کا نہ مٹنے والا داغ بن چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کا دفاع ممکن نہ رہا۔ اس وقت تک ملک کی سیاست دو مارشل لاؤں کی نذر ہو چکی تھی اور دو آنے والے سالوں کیلئے منہ کھولے بیٹھے تھے۔ مزید کا علم نہیں۔
کشمیر کو بھارت کے پنجہ استبداد سے آزاد کرانے کی خاطر ایک جنگی حکمت عملی یہ اپنائی گئی کہ Low Intesity Conflict Manageable Level شروع پر رکھا جائے کیونکہ اس کا منتہائے مقصود میدان جنگ میں حتمی فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ بھارت کو ایسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرنا تھا جو مسئلہ کشمیر کے لازمی اور منصفانہ حل کی نوید سنائیں۔ اصولی لحاظ سے اس سوچ اور اپروچ میں بنیادی نقص نہیں تھا۔ لیکن پہلی مرتبہ یعنی جنگ ستمبر سے عین پہلے اس پر بغیر ضروری منصوبہ بندی کے عمل کیا گیا۔ چنانچہ 6 ستمبر کو لاہور پر حملہ ہوا اورConflict Low Intesity قابو میں نہ رہا۔ 1989ء سے لے کر 1999ء تک پھر اس حکمت عملی کو اپنایا گیا۔ اس نے کامیابی کے آثار دکھانا شروع کر دئیے۔ فروری 1999ء میں اسی سے مجبور ہو کر واجپائی صاحب بس میں بیٹھ کر لاہور آئے۔ مذاکرات کا عمل شروع ہوا لیکن کارگل کی فوجی مہم جوئی نے تمام کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ ایک آپریشن اس وقت جاری ہے۔ اس کے حسن قبح اور ملک کی داخلی و خارجہ سلامتی پر مثبت یا منفی اثرات کا اس وقت جائزہ لیا جائے گا جب یہ اختتام کو پہنچے گا۔ برگ و بار لائے گا۔ لیکن اب تک یہ ہوا ہے امریکہ جو جنگ افغانستان میں لڑ رہا تھا اس کا تھیٹر پاکستان میں منتقل ہو گیا ہے۔ فوج بھی اپنی طالبان بھی اپنے۔ ناقابل بیان مصیبتوں کا شکار ہونے والے 30 لاکھ سے زائد معصوم شہری بھی اپنے دونوں جانب مرنے والوں کے خون سے لالہ زار بننے والی سرزمین وطن بھی اپنی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں