اول ایکشن بعد مشاورت‘ ڈرامہ

محمد یسین وٹو ـ 2 جون ، 2009
پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بلوچستان سلگ رہا ہے۔ بھارت سمیت کئی غیر ملکی طاقتیں (امریکہ اور روس بھی) وہاں باغیوں اور تخریب کاروں کی روپے پیسے اور اسلحہ سے مدد کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ہم نے مالاکنڈ اور دیگر شمالی علاقوں میں ملکی اور غیر ملکی طالبان اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں اپنے ہی شہری اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر کیمپوں اور کھلے آسمان تلے قیامت خیز گرمی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان بے گھر پاکستانیوں کی تعداد 25 سے 30 لاکھ تک یقیناً پہنچ چکی ہے۔ اپنے ہی وطن میں اپنے گھر بار‘ مال و اسباب تباہ و برباد کراکے بے گھر ہونے والوں کی کسمپرسی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت وقت نے کسی پیشگی پلاننگ اور حالات کا تجزیہ کئے بغیر بلا سوچے سمجھے فوجی ایکشن شروع کرا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے حکومت بالکل بے خبر تھی اور اب جو سنگین صورتحال اس وقت پیدا ہو چکی ہے اس کا قطعاً ان کو اندازہ ہی نہیں تھا یا پھر حکومت کے بعض سرکردہ عناصر سابق ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے ’’پاکستان کو تباہ کرو‘‘ کے ادھورے مشن کی تکمیل کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ تاثر عام ہے کہ صدر زرداری امریکہ کے دورے پر تھے کہ وہیں سے انہوں نے آرڈر دیدیا کہ سوات آپریشن فوراً شروع کر دیا جائے۔ بدقسمتی سے صدر زرداری کی صورت میں جو ’’ون مین شو‘‘ ملک میں جاری ہے وہ ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ملک میں آگ اور خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور آپ جناب کو غیر ملکی سیاحت سے فرصت نہیں۔ ملک بھر سے کی گئی تنقید کے نتیجہ میں کم و بیش ایک ماہ بعد آپ جناب ایک پناہ گزیں کیمپ میں تشریف لے گئے اور 21ویں صدی کے اب تک کے لطائف میں سے سب سے سُپر لطیفہ ارشاد فرمایا کہ ’’ہم اپنا پیٹ کاٹ کر متاثرینِ سوات کی ’’مدد‘‘ کریں گے‘‘ لوگ پوچھتے ہیںکہ آپ کو پیٹ کاٹنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے مختلف بیرونی ملکوں میں پھیلی ہوئی اربوں ڈالر کی دولت (جس کی تفصیلات کئی بیرونی ایجنسیاں‘ انٹرنیٹ پر دے چکی ہیں) میں سے اگر آدھی دولت ہی واپس لے آئیں تو نہ صرف متاثرینِ سوات کی بحالی اور آبادکاری کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال بھی یکدم بہتر ہو جائے گی۔ غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
اگر ایک سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار ریلیف فنڈ میں اپنے تجارتی اثاثوں سے 5 کروڑ روپے دے سکتا ہے تو آپ جناب اربوں ڈالر کے اثاثوں میں سے پچاس کروڑ ڈالر اگر اس ملک کی جھولی میں لا کر ڈال دیں گے تو آپ کی دولت کم نہیں ہوگی۔ کیا طرفہ تماشا ہے کہ ’’صاحب‘‘ نے جیب سے تو کیا دینا تھا اعلان فرما دیا کہ متاثرینکے لئے فوری طور پر حکومتی خزانے سے 50 کروڑ روپے جاری کئے۔ 30 لاکھ متاثرین کو فی کس 170 روپے ملیں گے۔ اس سے وہ اپنا گھر بھی تعمیر کریں گے‘ روٹی روزی کا اہتمام بھی۔ کسی منصوبہ بندی کے بغیر سوات آپریشن شروع کرا دیا گیا۔ اب آبادکاری منصوبہ بندی سے ہونی چاہئے۔ ’’ایکشن پہلے اور مشاورت بعد میں‘‘ والا سنگین ڈرامہ ختم کیا جائے۔ پارلیمنٹ اور قومی رہنمائوں کی سوچ سے منصوبہ بندی پہلے تیار کی جائے اور ایکشن بعد میں کیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں