"برسلز کانفرنس کا اےک جائزہ"

کرنل (ر) اکرام اللہ ـ 2 فروری ، 2010
برسلز (بلجےم) مےں ہونے والی 60 سے زائد ملکوں کے فوجی سربراہوں کی دوروزہ کانفرنس کے اختتام پر مےزبان ملک کے نےٹو سربراہ اےڈمرل ژبان پاﺅلوڈی پاﺅلا نے کہا کہ وہ روس کے آرمی چےف آف سٹاف نکولائی مکاراف اور پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پروےز کےانی کے خصوصی طور پر شکر گزار ہےں کہ بےن الاقوامی دہشت گردی پر افغانستان مےں کامےابی حاصل کرنے کے لےے پاک فوج کا کردار خصوصی اہمےت کا حامل ہے۔ جس کے بغےر اس خطہ مےں پائےدار امن حاصل نہےں ہوسکتا اس لےے برسلز کانفرنس کو پاکستانی افواج کی کلےدی حےثےت کا پورا پورا احساس ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کےانی نے کہا کہ پاکستان روس، امرےکہ، برطانےہ اور نےٹو ممالک کے دےگر فوجی سربراہوں کی معاملہ فہمی اور پاکستان کے کردار کی اس جنگ مےں فتح کے حصول مےںکردار کی اہمےت کا اعتراف کرنے کو قدر کی نگاہ سے دےکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امرےکی کمانڈر جنرل سٹےنلے مےکرسٹل کے اس نقطہ نظر کو پوری طرح سمجھنے کی بھی فوری ضرورت ہے کہ افغانستان کی پوری آبادی کا تحفظ اور اعتماد حاصل کرنا افغان پاکستان سٹرےٹجی کا اےک نہاےت اہم اور بنےادی عنصر ہے۔ پاکستان کے آرمی چےف نے ماضی کی رواےات سے ہٹ کر حقےقت پسندی کا روےہ اختےار کرتے ہوئے کانفرنس کو آگاہ کےا کہ موجودہ جنگ کو جےتنے کے لےے نےٹو فورسز کا پاکستان فوج کی اعلیٰ کمانڈپر مکمل اعتماد حصول فتح کا بنےادی تقاضا ہے ، لےکن حساس معاملات بالخصوص Intelligence Sharingمےں بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
اگر دشمن کو شکست دےنا مقصود ہے تو نےٹو اور پاکستان افواج مےں اےک دوسرے پر مکمل اعتماد کے بغےر اےسی رکاوٹےں اور مشکلات پےش آتی ہےں جو کسی سے ڈھکی چھپی نہےں ہےں۔ پاکستان کی مشکلات اور زمےنی حالات سے پاکستانی فوج دوسروںکی نسبت زےادہ آگاہ ہے۔ اس کا ثبوت "آپرےشن راہ راست" اور "آپرےشن راہ نجات" کی کامےابےوں سے واضح ہے، فوجی کاروائےوں مےں مثالی کامےابےوں کے علاوہ علاقہ مےں آبادی کی بحالی اور تعمےر نو کے مشکل ترےن عمل مےں بلاتاخےر کامےابی پاک فوج کی کامےابےوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے باوجود پاک فوج پر Do More کااصرار اور ےکطرفہ ڈرون حملوں کا تسلسل موجودہ افغان پاک سٹریٹجی کے بارے میں تحفظات پیدا کرتا ہے ۔ اسی طرح بجائے اس کے کہ علاقہ میں امن و امن کے حصول اور دیگر اہداف میں جلد از جلد کامیابی کے لئے پاکستان کے موجودہ رول کو قدر کی نگاہوں سے دیکھنے اور اس کردار کو مزید مظبوط کرنے کے وسائل پر غور کیا جاتا۔ پاکستان کے مشورے کے بغیر افغانستان میں بھارت کے فوجی اور اقتصادی رول کو مزید وسعت دینے کی منصوبہ بندی پاکستان کے لئے تشویش کا باعث ہے جن سے غلط فہمیاں پیدا ہو کر پیجیدگیاں پیدا ہونے کے امکانات ہیں جن کا مل جل کر جائزہ لیتے ہوئے تدراک کرنا روس کی سمیت سے کانفرنس میں شریک ملکوں کے فوجی رہنماﺅں نے جنرل کیانی کے موقف کی تائید کی۔ ان میں امریکہ کے ایڈمرل مائیکل مولن اور چیئرمین ملٹری کمیٹی اور نیٹو فورسز ایڈمرل ڈی پاﺅ لو نے بھی پاکستانی فوج کے کردار کو سراہا۔ ایڈمرل پاﺅلو نے کہا کہ 2010کے آخر تک وہ ایک اندھیری سرنگ کے دوسرے کنارے پر روشنی کی کرنیں دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل میکرسٹل کے مطابق مقامی دہشت گرد اور طالبان کا نیٹ ورک توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ کمزور ہو رہا ہے ۔ کچھ عرصہ بعد ان کا کچھ حصہ مارا جائے گا اور کچھ حصہ پکڑا جائے گا۔ ان کے وسائل بھی وقت کے ساتھ ختم ہونا شروع ہو جائیں گے چنانچہ اگر موجودہ اتحادیوں کی فوجی قوت نے اپنے مشن کی کامیابی پر یکسوئی سے اپنی موجودہ کاروائیاں جاری رکھیں تو افغانستان پاکستان عالمی سٹریٹجی پر عمل درآمد سے طالبان سے اور القائدہ اس علاقے میں Irrelevantیعنی بے سود اور بے معنی ہو جائیں گے امریکہ اور نیٹو افواج میری یہ وارننگ اپنے تکبر کے نشے میں بھولنے کی غلطی نہ کریں کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر علاقہ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہ ہو گا۔ گزشتہ 62سال کی تلخ تاریخ اس کی شاہد ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں