ریاستی اداروں میں تصادم

جاوید قریشی ـ 1 فروری ، 2010
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنی حالیہ ملاقات میں اُن افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ملک میں نصف مدتی انتخابات ہونے کو ہیں ۔ دونوں رہنمائوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ افواہوں کا آغاز تو گزشتہ انتخابات کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اسمبلیاں اور حکومتیں زیادہ دیر چل نہ پائیں گی۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پی ۔پی ۔پی اور( ن )لیگ ماضی میں ایک دوسرے کی حریف اور شدید مخالف رہی تھیں ۔ بلکہ صدرزرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف بیشتر مقدمات میاں نواز شریف کی حکومت کے زمانہ ہی میں قائم ہوئے۔ اِس کا اعتراف نواز شریف صاحب نے اسیری کے زمانہ میں آصف زرداری صاحب سے ملاقات کے دوران کیا تھا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ مقدمے سیف الرحمٰن نے بنائے تھے۔ جس بات پرزیادہ تعجب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سیا سی رہنمائوں کی طرف سے فوج کو مداخلت کی دعوت کے اشارے کئے جارہے ہیں ۔ اُن کی خواہش ہے کہ فوج آ کر سیاستدانوں کو سیدھا کرے بلکہ اگر ممکن ہو تو انتخا بات بھی کرا دے ۔ یہ سوچ جتنی غلط ہے اس کا پر چار اتنا ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
جمہوریت موقع فراہم کرتی ہے کہ حکومت کی کارگزاری پر تنقیدکی جا سکے بلکہ شدید تنقید کی جائے تاکہ حکومت کو اپنی کوتاہیوں کا علم ہو اور ان کوتاہیوں کو دورکرنے کے کو شش کی جائے۔ حکومت کوایک جمہوری دور میں اپنی کارگزاری بہتر بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔ جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے قریب قریب سب ہی لوگ اتفاق کریںگے کہ گزشتہ دوسال میں اس کی کارگزاری لائق تحسین نہیں رہی اور لوگوں نے جو توقعات اس سے باندھ رکھی تھیںپوری نہ ہو سکیں۔ یہ بات مزید باعثِ تشویش ہے کہ ایسی باتیں بعض ایسے لوگ کر رہے ہیں جو جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خلاف ہر اول کے دستہ میں رہے ہیں۔ اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیاجا سکتا ہے کہ ان نام نہاد " جمہوریت پسند لوگوں" کی دلچسپی صرف ایک بات میں تھی اور وہ یہ کہ تووہ خود حکومت کا حصہ ہوں یا حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جس سے یہ لوگ اتفاق کریں۔
بار بار کی غیر آئینی مداخلت نے ملک کے جمہوری نظام کو زبردست نقصان پہنچایا جوغالباًکچھ لوگوں کو یاد نہیں رہا۔ مانا کہ حکومت کی اب تک کی کار گزاری قابل رشک نہیں رہی۔ یہ بھی تسلیم کہ غلطیاں ہوتی رہی ہیں اور بد ستور ہو رہی ہیںمثلاً آئین پاکستان میں ضروری ترامیم (یا غیر ضروری ترامیم کی تنسیخ) توانائی کے شعبہ کے مسائل کے حل میںنا اہلی ،اقتصادی بد حالی وغیرہ یا یوں کہیئے کہ آمرانہ نظام سے جمہوریت کی طرف سفر طے کرنے میں حکومت نے اہلیت اور سمجھداری کا مظاہرہ نہیںکیا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جمہوریت بچانے لے کئے غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کی اِجازت دی جا سکے۔
N.R.O پر عدالت کے تفصیلی فیصلہ اور بعد کے واقعات سے تشویش پیدا ہوئی کہ شاید عدلیہ اور انتظامیہ تصادم کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ جہاں تک N.R.O کا معاملہ تھا اس کی تنسیخ یا اُسے خلافِ آئین قرار دیا جانا اتنا بڑا مسئلہ نہ تھا جس کا فیصلہ 281 صفحات میں لکھا جاتا۔ حکومت نے اس آرڈیننس کا دفاع نہیں کیا اس آرڈننس کو بِل کی شکل دینے کے واسطے اسے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ تو N.R.Oبہت مختصر بھی ہو سکتا تھا جس سے وہی نتائج نکلتے جو طویل فیصلے سے مترشح ہوئے ۔عام خیال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس قدر گہرائی اور گہرائی میں کئے جانے سے جو نتائج نکلے وہ صدر زرداری کیلئے کوئی نیک شگون نہ تھے۔ پھر یہ بحث چھڑ گئی کہ صدر زردا ری کو آئین میں کوئی استثناء دستیاب ہے یا نہیں۔پھر ایک درخواست کے ذریعہ صدر زرداری کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کو چیلنج کر دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ آصف زرداری انتخاب لڑنے کے وقت اس بات کے اہل نہ تھے کہ انتخاب میں حصہ لے سکیں۔ صدر زرداری کے علاوہ کچھ وفاقی وزراء کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ مشکل وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو پیش آئی۔ چار دن میں 6 مختلف شہروں میں6 مختلف مقدمات میں انہیں پیش ہونا پڑا۔ عدالتوں میں ذاتی حاضری سے استثناء وزیر داخلہ کو نہ مل سکی۔ ان تمام باتوں سے حکومت جیسے ایک دبائو میں آ گئی ۔ محسوس ہونے لگا کہ صدر زرداری کا زیادہ عرصہ اپنے عہدہ پر قائم رہنا شاید ممکن نہ رہے۔ میڈیا کے ایک سیکشن نے غیر یقینی اور حکومت کے مستقبل کے بارے میں مایوسی کا ماحول پیدا کرنے میں نمایاںکردار ادا کیا۔
ججز کی تقرری ایک اور نازک مسئلہ تھا جس پر حکومت اور عدلیہ میں اختلاف رائے پایا گیا۔ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ میںایک جگہ خالی ہوئی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب نے رمدے صاحب کاتقرر بطور ایک ایڈہاک جج تعینات کئے جانے کی سفارش کی۔ حکومت چیف جسٹس کی اس سفارش سے اتفاق نہ کر سکی ،سفارش مسترد ہو گئی۔ ویکنسی کو پُر کرنے کیلئے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ کے دوسرے سینئیر جج ثاقب نثار کی ترقی کی سفارش کی۔ حکومت نے یہ سمری بھی چیف جسٹس کو نظر ثانی کیلئے واپس بھجوا دی اور نشاندہی کی کہ 1996 کے " ججزکیس" کے فیصلہ کی روش میں ہائی کورٹ کے سب سے زیادہ سینئیر جج اس ترقی اور تقرری کے حقدار ہیں جو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ شریف ہیں۔ یہ سمری فی الحال چیف جسٹس پاکستان کے زیر غور ہے۔
ایسے واقعات نے ایک غیر معمولی بے یقینی کی فضا ملک میں پیدا کر دی ہے جو شہریوں کے لئیے باعث پریشانی و تشویش بنی۔ عدلیہ آزاد ہے اور شہری داد رسی اور انصاف کیلئے عدلیہ تک پہنچنے میں آزاد ہیں ۔ بہت سے اہم واقعات عدلیہ کے سامنے پیش ہیں۔ گمشدہ افراد کی بازیابی ان میں سے ایک ہے۔ سپریم کورٹ اس کیس میں بہت دلچسپی رکھتی ہے ۔ اس ضمن میں حکومت کے اقدامات سے عدلیہ مطمئن نہیں ۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبا ل نے (جو اس کیس کی سماعت کر رہا ہے) کہا کہ اگر حکومت ان گمشدہ افراد کو بازیاب نہیں کرا سکتی تو ہمیں بتا دے ہم اُن کے لواحقین سے معذرت کر لیں گے۔ افسران کی گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کا ایک اور مقدمہ ہے جس میں چیف جسٹس جاننا چاہتے تھے کہ کن وجوہ کی بنا پر حکومت (وزیر اعظم) نے سینئیر لوگوں کو نظر انداز کر کے بعض جونئیر افراد کو ترقی دی۔ حکومت کے وکیل حفیظ پیر زادہ نے وزیر اعظم کا ایک خط عدالت میں پیش کیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اداروں میںتصادم نہیں ہو گا۔ ہم یہاں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں۔ چیف جسٹس کے یہ ریمارکس حکومت کیلئے ضرور وجہ طمانیت ہوں گے۔ اور عوام کے خدشات کم کرنے میں ان سے بہت مدد ملے گی ۔
حکومت کے تمام اداروں کو ا س بات کا احساس ہونا چاہئیے کہ ہر ادارہ آئین میں مقرر آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض ادا کرے۔ اگر ایسا ہو (اور ایسا ہی ہونا چاہئیے) تو انشاء اللہ تمام چھوٹے موٹے اختلافات خود بخود سلجھ جائیں گے۔ حکومت کو اندازہ ہونا چاہئے کہ کس کوشش اور جدو جہد کے بعد ملک میں جمہوریت آئی ہے۔ اب اس جمہوریت کو چلنا چاہئے۔ اسی طرح وکلاء کی تحریک ( جس میںسول سوسائٹی اور آخر میں سیاسی جماعتیں بھی شریک ہو گئیں تھیں) دو سال کی جد و جہد کے بعد عدلیہ کو بحال کرانے میں کامیاب ہوئی اورپوری قوم عدلیہ کو عزت اور احترام سے دیکھتی ہے۔ دستور میں مقننہ ، انتظامیہ، عدلیہ پر کسی کا رول متعین ہے۔ انتظامیہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت سے احترازکرے۔ تب ہی مملکت کا نظام صیحح خطوط پر چلے گا۔ حالات کی سنگینی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے پریشان لوگوں نے کہنا شروع کر دیا :
نا صحو چارہ گرو جینے کی صورت کوئی
بھولتی جاتی ہے تصویر نگاراں ہم کو
کیایہی ہے جسے منزل کہیں ساحل سمجھیں
یاد آنے لگی آسائشِ طوفاں ہم کو
محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کے اداروں کو حالات کی سنگینی کا احساس ہونے لگا ہے اور وہ اپنے حقوق اور دستور میں لگائی گئی قیود سے آگاہی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ جمہوریت کا قیام اور عدلیہ کی بحالی طویل جدو جہد کے بعد ممکن ہو سکے ہیں۔ ذرا سی بے احتیاطی سے سارے نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ وزیر اعظم کا یہ بیان قابل اطمینان ہے کہ حکومت عدلیہ کا بہت احترام کرتی ہے اور اس کے احکامات پر عمل درآمد میں کوئی کوتا ہی نہیں ہو گی۔ اسی طرح چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ" اداروں میں تصادم نہیں ہو گا "اور یہ کہ" وہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں " بہت حوصلہ افزا ہے۔ جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کو مکمل طور پر قائم ہونے میں وقت لگے گا۔ لوگوں کو صبر سے کام لینا چاہئے ۔ اس سلسلہ میں میڈیا بہت اہم فریضہ ادا کر سکتا ہے ۔معمولی ایشوز کو شہہ سُرخیاں بنا کر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہئیے اور ہر ایسے اقدام سے احتراز جس سے ریاستی اداروں میں تنائو پیدا ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں