میری تمام سر گذشت کھولے ہوﺅں کی جستجو

ـ 31 اگست ، 2010
مکرمی! اللہ اور رسول اللہﷺ کے نام پر مسلمانان ہند نے قائداعظمؒ کی قیادت مین جس خطہ زمین کے حصول کی درخواست کی تھی اللہ تعالیٰ نے وہ ہمیں عطافرمایا۔ اب یہ ہمارا قومی فریضہ تھا کہ ہم وہاں خدا تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو نافذ کرتے مگر ہمارے حکمران، سیاستدان اور مقتدر لوگوں نے اعراض و انحراف کی روش اختیار کی، جدید یت کے سحر سے ایسے مسحور ہوئے کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار کا نام لینا اپنے مقام اور مرتبے سے فروتر سمجھتے رہے حتیٰ کہ بعض حکمران قرآن و سنت کا نام لینا باعث شرم خیال کرتے تھے۔ جدت پسند حکمرانوں نے اپنے سیاسی، معاشی اور معاشرتی تخیل اور افکار کی روشنی میں جو حکمرانی کے نمونے پیش کئے اُن کے ہلاکت خیز نتائج دیکھ کر اللہ کی مخلوق بلبلا اٹھی، ساری دنیا میں ہماری رسوائیوں کا چرچا ابھی تک استہزائی انداز میں جاری ہے کوئی کہتا ہے کہ ہم ڈالروں کے عوض اپنی مائیں تک فروخت کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ ہر لمحہ ہمیں دھڑکا لگا رہتا ہے کہ فلاں سپر پاور ہم سے ناراض ہوگئی تو ہمارا ملکی نظام معیشت درہم برہم ہوجائیگا۔ ہمارا کشکول بیرونی ممالک سے خالی واپس آئیگا، ہمارا قومی بجٹ کبھی خسارے کی دلدل سے باہر نہیں آئیگا۔ یہ خدشات حقائق پر مبنی ہیں تو اصلاح احوال کیلئے سر توڑ کوششوں کی ضرورت تھی جو کسی دور میں بروئے کار نہ آسکیں۔ پاکستان کا معرض وجود میں آنا اس لئے ممکن ہوا کہ تحریکِ پاکستان کیلئے فکری رہنمائی کا فریضہ اقبالؒ نے کماحقہ اداکیا اور تحریکی راہنمائی کیلئے جس قائد کا انہوں نے انتخاب کیا وہ دس کروڑ مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کیلئے ہر لحاظ سے موزوں ترین تھا۔ وہ اہلیت، امانت دیانت، فراست جیسی خوبیوں میں یکتا تھا، ایفائے عہد اُس کا شیوہ تھا، کذب، بہتان طرازی دھوکہ دہی اسکے قریب نہیں پھٹکے تھے۔ ہندوستان میں علماءفضلا، اتقیائ، شیوخ الحدیث اور لغت ہائے حجازی کے حفاظ کی ہرگز کمی نہیں تھی لیکن اقبال کی خداداد بصیرت بے مثال دانش نورانی اور نگاہِ دوررس نے لندن کے گوشہ فراغت و عافیت میں پناہ گزین محمد علی جناح کو تلاش کرلیا جو بظاہر انگریز تمدن کا پروردہ اور جدید تہذیب کا دلدادہ تھا گر وہ جو کسی نے خوب کہا ہے” محمد ہی لکھا ہوگا اگر مسلم کا دل چیریں“ محمد علی جناحؒ ہر لحاظ سے اسکے مصداق تھے۔
( پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بھٹی، کارکن تحریک پاکستان )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter