واپڈا بھی میڈیکل الاونس ادا کرے
ـ 31 اگست ، 2010
مکرمی! حکومت پاکستان نے انتہائی سوچ بچار اور حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس بجٹ میں اعلان کیا کہ.... سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو علاج معالجے کی سہولت میں دوائیوں کی بجائے مقررہ شرح سے میڈیکل الاﺅنس ملے گا۔ ملازمین اور پنشنرز کی واضح اکثریت نے اس اعلان پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ دوائیوں کے حصول اور عدم دستایبی کی صورت میں واپڈا کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط کے تحت خرید کر بل کی وصولی میں حائل مختلف مشکلات کے سبب اکثر ملازمین اور پنشنرز اس سے مستفید نہیں ہو پاتے اور مخصوص اثر و رسوخ کی حامل قلیل تعداد ہی اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔
اب ستم ظریفی یہ ہوئیہے کہ واپڈا نے اپنے نوٹیفکیشن میں میڈیکل الاﺅنس کا تذکرہ ہی نہیں کیا حالانکہ واپڈا ملازمین پر پر مرکزی حکومت والے قانون لاگو ہوتے ہیں۔
میری طرح ہزاروں بزرگ پنشنرز واپڈا کے علاج معاجلے کے نظام سے ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اب جبکہ گورنمنٹ نے ملازمین اور پنشنرز اسی دکھ کے ازالے کے لئے میڈیکل الاﺅنس دینے کا اعلان کیا ہے تو واپڈا کی قلیل اشرافیہ اور مخصوص اوپر والا طبقہ اپنے مفاد میں ہم بے یار و مددگار کا حق کیوں مار رہا ہے....؟
(دعا گو بزرگ پنشنر (واپڈا)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں