پنشنرز، بیوہ خواتین و یتیم بچے عبوری امداد سے محروم کیوں؟؟

ـ 31 اگست ، 2010
مکرمی! مورخہ 2 اگست 2010ءکو جب بورڈ ہذا کے ریٹائرڈ پنشنرز، بیوہ خواتین اور ان کے ساتھ ان کے یتیم بچے جب حبیب بنک سے اپنی پنشن لینے آئے تو انہیں یہ سن کر انتہائی صدمہ اور دلی افسوس ہوا کہ محکمہ تعلیم کے سیکرٹری احد چیمہ کے زبانی احکام نے بورڈ کے موجودہ چیئرمین کو مجبور اور محصور کر دیا کہ صوبائی حکومت کے اعلان کے مطابق 15 سے 20 فیصد عبوری امداد کسی بھی صورت میں ریٹائرڈ پنشنرز، بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کو نہ دی جائے، وجہ نامعلوم؟؟ (Reason best Known to him)۔
جبکہ حالات حاضرہ کے تحت ریٹائرڈ پنشنرز، بیوہ خواتین اور یتیم بچے اپنے ہی گھر میں بیگانے اور خاندان اور معاشرے میں اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔ ان حالات میں ان کی اپنی اولاد بھی ان کی عزت نہیں کرتی، ان کو دھتکارتی اور غلیظ گالیاں بھی دیتی ہے، اپنے اوپر ایک بوجھ سمجھتی ہے۔ انسان اگر زندہ ہے اور اپنی نوکری سے زادہ ریٹائر بھی ہوا ہے تو پنشن اس کی سانسوں کا تسلسل برقرار رکھتی ہے۔
کیا وزیراعلیٰ پنجاب، خادم اعلیٰ پنجاب اپنے ہی جاری کردہ حکم کی تعمیل کیلئے ان بدفطرت، بدنیت اور بوسیدہ گندی سوچ کے مالک بیوروکریٹس کا کوئی بھی فوری محاصرہ کر کے ان تمام ریٹائرڈ پنشنرز، بیوگان اور یتیم بچوں کو اس عبوری امداد 15 سے 20 فیصد سے مستفید کرائیں گے۔ ( گلزار احمد و دیگر ریٹائرڈ پنشنرز، بیوہ خواتین و یتیم بچگان وغیرہ )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter