مفادات کی آنکھ ۔ ایک آنکھ کے مالک لوگ، کانے
ـ 31 اگست ، 2010
مکرمی ! اگر کوئی معاشرہ برائیوں کی لپیٹ میں آ جائے تو اس معاشرے کے نظام کو چلانے والے لوگ ہی اصل ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ ان میں حکمران عوام کے نمائندے، عدلیہ سے تعلق رکھنے والے، انتظامیہ کے ہر شعبے میں کام کرنے والے سرکاری اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ عہدہ کرسی پر کوئی بھی ہو ملکی نظام کو بہتر طور پر نہ چلانے کی وجوہات، اقربا پروری، لالچ، ہوس، بدنیتی پر مبنی مفادات۔ ایسے سارے ذمہ دار لوگوں کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اچھی پوسٹنگ جہاں رشوت کے پیسے زیادہ ہوں، ملازمت میں جلد ترقی، اگر کوئی جرم یا کوتاہی سرزد ہو جائے تو اس کی سزا نہ ملے۔ پلاٹس، ٹھیکے، کمیشن، غرضیکہ لالچ کا ہر پہلو کسی نہ کسی طرح شامل ہوتا ہے۔ اس طرح ایسے لوگ ایک دوسرے کے مرہون منت ہو جاتے ہیں ایک ضرب المثل کے مطابق ایک دوسرے کے کانے ہوتے ہیں۔ بظاہر ان کی دو آنکھیں ہوتی ہیں لیکن عملی طور پر حقیقت میں ایک ہی آنکھ سے دیکھتے ہیں وہ بھی صرف اپنے مفادات کو دیکھتی ہے۔ عوام کی خیر، بہتری، بھلائی والی آنکھ بند ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ برائیوں کے شکار معاشرے میں اچھے اچھے لباس میں ملبوس، مہنگی مہنگی گاڑیوں میں سوار بڑے گھروں میں رہنے والے، بڑے پروٹوکول کے مالک ”کانے“ ۔۔۔ اگر معاشرے میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو پھر ”کانے ہی کانے“ ایسے بُرے معاشروں میں اوپر کی سطح پر کچھ ایک آنکھ والے ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن کی آنکھ صرف دنیا کی مختلف کرنسیوں کے تاروں کو دیکھتی ہے۔ (رانا احتشام ربانی۔ پوسٹ بکس نمبر 01، جی پی او، اوکاڑہ، فون 0300-9424927)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں