قدرتی آفات کا آنا اچمنبھا تو نہےں
ازل سے برباد ہوتے آئے ہےں اہل زمےں
زلزلے سےلاب طوفاں قحط اور بےمارےاں
کرتے آئے ہےں تباہ انسان کی آبادےاں
ہوچکا قصہ بہت اب قدرتی آفات کا
سےل بے قابو کا اور بپھری ہوئی برسات کا
بے بسی کے سب نظارے کرچکا ہے آسماں
اب رقم ہوگی ہمارے حوصلوں کی داستاں
ہوچکا ہونا تھا جو لکھا ہوا تقدےر کا
امتحاں ہے اب ہمارے جذبہ تعمےر کا
ملک کے طول وعرض مےں ہے تباہی بے حساب
گھرگھروندے کھےت کھلےاں ہوگئے سب غرق آب
ڈوب کرابھرے ہےں جو تھام کر اب ان کا ہاتھ
اپنے قدموں پرکھڑا کرنا ہے دے کر ان کا ساتھ
اٹھو اے اہل وطن! اب کمر ہمت باندھ کر
خودپرستی اور انا کے سب بتوں کو توڑکر
عام لوگ اور حکمران کندھے سے کندھا جوڑ کر
فکر آگے کی کرےں اب رونا دھونا چھوڑکر
سرخرو ہوجائےں ہر آفت کا گھےرا توڑکر
مسز شہزاد ملک ،ڈےفنس لاہور