امتحاں ہے اب ہمارے جذبہ تعمیر کا

ـ 31 اگست ، 2010
قدرتی آفات کا آنا اچمنبھا تو نہےں
ازل سے برباد ہوتے آئے ہےں اہل زمےں
زلزلے سےلاب طوفاں قحط اور بےمارےاں
کرتے آئے ہےں تباہ انسان کی آبادےاں
ہوچکا قصہ بہت اب قدرتی آفات کا
سےل بے قابو کا اور بپھری ہوئی برسات کا
بے بسی کے سب نظارے کرچکا ہے آسماں
اب رقم ہوگی ہمارے حوصلوں کی داستاں
ہوچکا ہونا تھا جو لکھا ہوا تقدےر کا
امتحاں ہے اب ہمارے جذبہ تعمےر کا
ملک کے طول وعرض مےں ہے تباہی بے حساب
گھرگھروندے کھےت کھلےاں ہوگئے سب غرق آب
ڈوب کرابھرے ہےں جو تھام کر اب ان کا ہاتھ
اپنے قدموں پرکھڑا کرنا ہے دے کر ان کا ساتھ
اٹھو اے اہل وطن! اب کمر ہمت باندھ کر
خودپرستی اور انا کے سب بتوں کو توڑکر
عام لوگ اور حکمران کندھے سے کندھا جوڑ کر
فکر آگے کی کرےں اب رونا دھونا چھوڑکر
سرخرو ہوجائےں ہر آفت کا گھےرا توڑکر
مسز شہزاد ملک ،ڈےفنس لاہور
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter