یسٰین ملک صاحب! مجید نظامی پاکستانیوں کے بھی محسن ہیں
ـ 30 ستمبر ، 2009
مکرمی! تحریک آزادی کشمیر کے رہنما یٰسین ملک نے مجید نظامی ہال میں منعقد ہونے والے پروگرام ”ایشو آف دی ڈے“میں” کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارتی بربریت، تازہ ترین صورت حال“ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں خطاب کے دوران نوائے وقت گروپ کے مینجنگ ڈائریکٹر جناب مجید نظامی کو ”تحریک آزادی کشمیر کے سب سے بڑے سفیر“ سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کیلئے ادارہ نوائے وقت نے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود مجید نظامی نے کبھی پرواہ نہیں کی کہ حکومت ان کے اشتہار بند کردے گی اور اخبار چلنا مشکل ہوجائے گا۔ یٰسین ملک نے کہا کہ لوگ اس وجہ سے اپنا قلم بیچ دیتے ہیں لیکن اللہ کا شکرہے کہ مجید نظامی نے ہمیشہ اپنے قلم کی آبرو کی حفاظت کی کشمیری قوم مجید نظامی کو اپنا محسن سمجھتی ہے۔
یٰسین ملک کشمیری رہنماﺅں میں حقیقت پسند شمار کئے جاتے ہیں اپنے مذکورہ خطاب میں بھی انہوں نے حقیقت پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مثبت اور منفی صحافت میں فرق واضح کرتے ہوئے واضح الفاظ میں زرد صحافت کی مذمت کی ہے اور مثبت صحافت کو سلام پیش کیا ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں دیگر اداروں میں قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے اسی طرح صحافت کا ادارہ بھی ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ صحافیوں کی اکثریت اہل اقتدار کی مرد بیمار بن چکی ہے۔ نوٹوں اور پلاٹوں کے عوض بڑے بڑے نامی گرامی صحافی اپنا ضمیر بیچنے سے چونکتے نہیں۔ ملک کے بڑے بڑے اخبارات اور چینلز پر ایسے ایسے لوگ کرتادھرتا ہیں جن کی سوچ مخصوص اور ذاتی مفادات سے آگے نہیں جاتی کالم نویسوں کا یہ حال ہے کہ ایک وقت وہ کسی صاحب اقتدار کی مدح سرائی کرتے ہیں جب وہ اقتدار کے ایوانوں سے غائب ہوتا ہے تو نئے آنے والے کی تعریف کے پل باندھنا شروع کردیتے ہیں۔ اس طرح اقتدار کی دیوی سے اپنا اپناحصہ وصول کرتے ہیں۔ اکثر اوقات بڑے نام کے اخباروں کے سینئر ترین کالم نویسوں کے کالم پڑھ کر صحافت کے نام سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ جہاں تک باقی اخبارات کی مجموعی کارکردگی کا تعلق ہے ان کی اکثریت کی مثال بدروحوں کی سی ہے کالموں کو چھوڑیں خبریں ہی ایسی ایسی زبان اور ایسے ایسے الفاظ سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ وہ واہیاتی کا پرتو ہوتی ہیں۔ اسی طرح عریاں و غلیظ قسم کی تصاویر اور اشتہارات شائع کئے جاتے ہیں کہ ہمارے جیسے اسلامی معاشرے میں ایسا تصور بھی نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن چند سکوں کی خاطر ایسا ڈنکے کی چوٹ پر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً لوگ ایسے اخبارات پڑھنا تو درکنار ان اخبارات کو گھر یا دفتر کے کسی کونے میں چھپاتے پھرتے ہیں کہ کہیں یہ کسی خاتون یا بچے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ ایسے اخبارات چھاپنے والوں کو بھی اصطلاحاً ہم صحافی کہنے پر مجبور ہیں۔ ایسا اخبار جوکسی شریف شہری کے گھر داخل ہونے کے قابل نہیں تو پھر ایسی صحافت کو ہم کونسا نام دے سکتے ہیں اور کیا ایسے اخبارات کسی قومی مفاد کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے حق بات لکھ سکتے ہیں۔
میرا تعلق وکالت کے پیشہ سے ہے کسی اخبار یا صحافی سے کوئی سروکار نہیں۔ اس لئے میری اس بات کو مبالغہ آرائی نہیں سمجھنا چاہئے کہ ”نوائے وقت“ وطن عزیز کا واحد اخبار ہے جس نے شروع سے آج تک اپنی عظیم روایات کو نبھانا اپنا فرض اولین سمجھا ہے اور کبھی بھی ذاتی اور مخصوص مفادات کی بھینٹ چڑھ کر اپنے مقدس قلم کو زرد صحافت کی زردی سے آلو دہ نہیں ہونے دیا۔ ”نوائے وقت“ قدامت پسند اخبار ہے اور نہ ہی اسے ہم مکمل طور پر ماڈرن یا جدت پسند قرار دے سکتے ہیں۔ البتہ ”نوائے وقت“ اپنی ذات میں ایک معتدل اخبار ہے۔ شرفاءکی اکثریت اسے فیملی اخبار قراردیتی ہے۔ مردوں و خواتین اور بچوں کیلئے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔”نوائے وقت“ نہ صرف خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ اسے ایک تربیتی ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔ اسے دفتروں یا پھر گھروں کے کونوں میں چھپانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ چونکہ روزنامہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی صاحب تحریک پاکستان کے سرگرم کردار تصور ہوتے ہیں اس لئے مجید نظامی صاحب نے اس روایت کو نبھاتے ہوئے ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے میں کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ یہ مجید نظامی صاحب ہی تھے جنہوں نے میاں نوازشریف کو ایٹمی دھماکوں کے بارے میں مشورہ دیا تھا کہ ”میاں صاحب! اگر آپ نے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے نہ کئے تو قوم آپ کا دھماکہ کردے گی“۔ علاوہ ازیں وطن عزیز کے مقامی مسائل ہوں یا ملکی یا پھر بین الاقوامی ہر سطح پر ادارہ نوائے وقت کا کردار بھرپور اورقابل ستائش رہا ہے۔ مسئلہ فلسطین ہو یا پھر چیچنیا، کوسوووکا قضیہ ہو یا پھر کشمیر اور افغانستان کے مسائل نوائے وقت اور وقت چینل سب سے آگے ہیں۔ یٰسین ملک صاحب! مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کیلئے نوائے وقت نے جو اب تک کردار ادا کیا ہے یہ اس کا صحافتی فریضہ اور پیشہ وارانہ شیوہ ہے آپ کے ساتھ ساتھ ہم تمام پاکستانی بھی صحافت کے ماتھے کے جھومر جناب مجید نظامی کو سلام پیش کرتے ہیں اورانہیں وطن عزیز کے محسنین میں شمار کرتے ہیں۔بلاشبہ ان کی گنتی ان چند افراد کے ایک قبیلے میں ہوتی ہے جن کے بارے میں غزل کے بادشاہ میر تقی میر نے کہا تھا....
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
(میاں محمد حسن وٹو ایڈووکیٹ ہائیکورٹ دفتر تحصیل کورٹس دیپال پور ضلع اوکاڑہ 0300-5458412)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں