پاکستانی صنعت اور معیشت بحران کا شکار

ـ 30 جنوری ، 2012
مکرمی ! پاکستان کی صنعت اس وقت تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہے۔ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور آئے روز بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بدولت اس وقت پاکستان کی صنعت 50 فیصد استعداد پر کام کر رہی ہے جس سے بیروزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صرف ٹیکسٹائل اور انڈسٹری میں عام طور پر 20 لاکھ کارکن کام کرتے ہیں جبکہ آج کل ان کی تعداد 10 لاکھ تک سمٹ چکی ہے اس کے علاوہ روزمرہ استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں آئے روز اضافے کی وجہ سے عام آدمی کا جینا محال ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ابھی تک حکومت نام دکھائی دیتی ہے حکومت کو چاہئے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کا انتظام کر کے ملک کے صنعتی شعبوں کو بلاتعطل گیس اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ (نور العین ۔ شعبہ ابلاغیات ، گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج چونا منڈی لاہور)
پنشن میں اضافہ
مکرمی ! مرکزی حکومت کی سروس سے 1995 سے 2001 تک ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں چند سال قبل سات فیصد اضافہ کیا گیا اور بقایا جات بھی ادا کر دئیے گئے۔ مرکزی حکومت کی پیروی میں 2011ءمیں صوبائی حکومت سندھ نے بھی اسی عرصہ میں اپنے ریٹائرڈ صوبائی سروس کے ملازمین کی پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا اور بقایا جات ادا کر دئیے۔ شنید ہے کہ پنجاب میں اس سلسلہ میں حکومت کی حتمی منظوری باقی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب میاں شہبار شریف سے التماس ہے کہ فوری منظوری دے کر ریٹائرڈ بزرگ ملازمین کی دعائیں لیں۔ (شوکت محمود ۔ 62 کشمیر بلاک علامہ اقبال ٹا¶ن لاہور فون 042-37800219 موبائل 0300-4724755)
لواحقین مرنے والوں کا خون کن کے ہاتھوں پہ تلاش کریں
مکرمی ! غلط ادویات کی وجہ سے اب تک 100 سے زائد افراد لمقہ اجل بن چکے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم سب کا ایمان اور یقین ہے کہ موت برحق ہے اور اس کا وقت مقرر ہے لیکن جو اموات حکومتی ٹھیکیداروں کی لاپرواہی و بے حسی کے سبب ہوں ان سب کے ذمہ دار موجودہ حکمران ہیں۔ میری وفاقی و صوبائی حکمران اور اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں سے التماس ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور میمو سکینڈل یا کسی دوسرے سکینڈلز میں ایک دوسرے پر گند اچھالنے کی بجائے عوام کے مفادات اور بہتری کے لئے اقدامات کریں۔(وحید یوسف جنجوعہ۔ وزیر آباد موبائل نمبر 0300-6201107)
کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں مجرمانہ غفلت
مکرمی ! جنرل ایوب خان مرحوم کے دور میں دو ڈیم تعمیر ہوئے منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم۔ اس کے بعد کئی حکومتیں آئیں، مارشل لا بھی آیا لیکن تیسرا ڈیم آج تک نہ بن سکا۔ کالا باغ ڈیم جس کی فیزیبلٹی رپورٹس سب تیار پڑی ہیں پتہ نہیں کن وجوہات کی وجہ سے یہ اہم ڈیم التوا میں پڑا ہے۔ خدارا پاکستان کے دشمن بھارت کو دیکھیں جس نے 62 ڈیم تعمیر کر رکھے ہیں اور ہمارے دریائے سندھ پر بھی 15 ڈیمز کی تعمیر کا کام شروع کر رکھا ہے۔ اس لئے اس اہم ڈیم کی تعمیر میں اگر کوئی رکاوٹیں ہیں تو انہیں مفاہمت کے ساتھ دور کیا جائے اور اس ڈیم کی تعمیر کو آج ہی شروع کر دیا جائے تاکہ ہم پانی کی قلت کا شکار نہ ہوں۔ (حاجی فضل الٰہی مغل ۔ شاہدرہ ٹا¶ن)
پسندیدہ ملک بھارت کیوں ؟
مکرمی ! ہمارے پاک وطن کے سربراہوں کا بھارت پسندیدہ ملک قطعی نہیں ہونا چاہئے۔ صحرا بھارت نے پہلے ہمارے دریا¶ں پر 62 ڈیم بنائے، اب دریائے سندھ پر مزید 9 ڈیم تعمیر کرنے پر تُلا کھڑا ہے۔ بھاکھڑا ڈیم بنا کر اس نے یہاں سے دریا نما نہر نکال رکھی ہے جس سے راجستھان کے ویرانوں اور ریگستانوں کو سیراب کر کے زرخیز میدانوں میں تبدیل کر لیا ہے۔ اس کا یہ علاقہ اب اناج گھر سے موسوم ہو چکا ہے۔ ہمارے ہی پانیوں کو کنٹرول کر کے وافر مقدار میں سبزیاں برآمد کر رہا ہے۔ یوں ہمیں دوہری مار مار رہا ہے۔ اس ازلی دشمن سے تجارت کی پینگیں بڑھانا اور پسندیدہ ملک شمار کرنا غیرت ملی کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ خدارا ایسے دشمن ملک سے لین دین ختم فرمایا جائے۔ (چودھری نور احمد نور ۔ پرنسپل بھنڈاری سکولز گوجرانوالہ)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں