لوڈشیڈنگ اور عوامی کردار
ـ 30 اگست ، 2010
مکرمی! پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک ملک میں کبھی کوئی تعمیری کام ہوتا ہے تو اس پر حکومتوں کو کبھی کریڈٹ نہیں دیا جاتا جبکہ خرابی پر حکومت بدلنے کیلئے احتجاج اور واویلا شروع کر دیا جاتا ہے بجلی کے بحران پر بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ دنیا میں اس وقت امریکہ سمیت بے شمار ممالک توانائی کے بحران سے دوچار ہیں مگر ان ممالک میں بجلی کی ترسیل کا انتظامی ڈھانچہ انتہائی شفاف اور پائیدار ہے دوسرا وہاں تعلیم یافتہ اقوام نے بحرانوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کیلئے حکومت کے شانہ بشانہ جدوجہد کو شعار بنایا ہے۔ بجلی بچانے کیلئے ہفتے میں دو چھٹیاں اور رات آٹھ بجے تک دکانیں اور بازار بند کرنے کے اصول وضع کر دیئے گئے ہیں جن کی بدولت کارخانے اور فیکٹریوں کو بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے‘ جس سے لاکھوں خاندان بے روزگار ہونے سے بچ گئے ہیں‘ گھریلو صارفین کی مشکلات بھی کم ہوئی ہیں۔ گزشتہ برس کی نسبت آج حالات بہت بہتر ہیں بجلی بچانے کے منصوبوں پر عمل کرانے سے خاطر خواہ مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان حالات میں عوام کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ شرپسندوں کی شہ پر احتجاج اور توڑ پھوڑ کا راستہ اپنائیں یا بجلی بچانے کے اصولوں پر کاربند ہو کر خود کو اور پوری قوم کو فائدہ پہنچائیں۔عروج علی .... سمن آباد لاہور
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں