نوجوان طبقے کی بقامقصود یا تباہی
ـ 30 اگست ، 2009
مکرمی! دور حاضر میں دیکھا جائے تو ہر طرف فحاشی و عریانی کا سیلاب امڈا ہوا ہے۔ کفار (یہود و نصاریٰ) کی مسلسل جدوجہد ہے کہ اس سیلاب کے ذریعے جتنا ممکن ہو سکے مسلمانوں کو ان کے مقصد یا نصب العین سے ہٹایا جائے۔ قرآن میں تو اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں مسلمانوں کو پروٹوکول دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’تم ہی وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو تم بھلائی کا حکم دیتی ہو اور برائی سے روکتی ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتی ہو۔‘‘جدید معاشرہ جہاں ترقی کی جانب رواں دواں ہے وہیں پر شرم و حیا سے عاری ہوتا جا رہا ہے اس کی بدترین مثال ایک ادارے کی جانب سے Beautiful Challenge مقابلہ کا انعقاد ہے آخر پاکستان کی 16 کروڑ عوام کو اس کے ذریعے سے کیا سبق دیا جا رہا ہے۔ کیا امتِ مسلمہ کم پس رہی ہے؟ کیا امتِ مسلمہ متحد ہے؟ کیا امتِ مسلمہ کے لئے کوئی اور کام نہیں رہ گیا‘ جو اب مزید اس مقابلہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے آخر اس مقابلے کا مقصد و مدعا کیا ہے؟ کیا اس کے ذریعے معاشرے کی نوجوان نسل کی بقا مقصود ہے یا تباہی؟ درحقیقت یہ نوجوان نسل کی تباہی ہی ہے کیونکہ یہ حیا کے تمام تقاضوں سے ہٹ کر ہے۔ حضرت محمدؐ کا ارشادِ گرامی ہے۔ ’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کرو‘‘ یہ حدیث مکمل طور پر اس مقابلہ کے غلط ہونے کی عکاسی کر رہی ہے کہ جو کام اللہ نے سونپا اسے تو ترک کر دیا اور جس سے منع کیا اسے اختیار کر لیا یہ تو یہود و نصاریٰ کو تقویت دینے والی بات ہے۔ (حافظہ مدیحہ۔ لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں