چیف جسٹس انصاف دلائیں
ـ 28 اکتوبر ، 2009
مکرمی!سال76 سال کا ایک بوڑھا‘ بے کس اور لاچار انسان ہے جس کا بیٹا ڈاکٹر پرویز احمد اعوان گریڈ 20کا پنجاب گورنمنٹ کا ڈاکٹر تھا۔ اس نیک سیرت انسان کو 22-08-2004 کو تھانہ چوہنگ کی حدود میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا‘ جس کی بابتFIR No.381/04تھانہ چوہنگ ضلع لاہور میں درج کروائی گئی ۔ بووقت قتل میرا بیٹا اپنی گاڑی میں سوار تھا اس کے پاس موبائل فون اور بریف کیس بھی تھا مگر پولیس نے آج تک نہ تو اس گاڑی کو قبضہ میں لیا اور نہ ہی بریف کسی جو گاڑی میں موجود تھا۔ اس کو اپنے قبضہ میں لے کر تفتیش کی جبکہ مقتول کا موبائل فون قبضہ میں لے لیا گیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر قتل کی شہادتوں کو ضائع کیا اور اب قتل کے مقدمہ کو عدم پتہ کر کے داخل دفتر کیا ہوا ہے کیونکہ ملزمان بااثر ہیں اور اپنے اثرو رسوخ کے بل بوتے پر تفتیش پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران کو متعدد درخواستیں دی ہیں۔ مگر پولیس نے پھر بھی کوئی کارروائی نہ کی۔ چیف جسٹس صاحب اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاکستان میں عدل کی سب سے اعلیٰ عہدے پر مقرر فرمایا ہے اور آپ کے اقدامات سے لگتا ہے کہ پاکستان میں کوئی تو ہے جو پاکستان کی بے لگام پولیس کو پوچھتا ہے میرا جواں بیٹا تو قتل ہو چکا ہے مگر میری آخری خواہش ہے کہ میں اسکے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھ سکوں۔ (محمد موسیٰ خان‘ ساکن 64-A/3 نرسری لین لارنس روڈ لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں