”دودھ سے نہایا کوئی بھی نہیں“

ـ 28 جنوری ، 2010
مکرمی! سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”لوگ ہمارا دور یاد کر رہے ہیں۔ یہ تو جناب کی غلط فہمی ہے کہ لوگ ان کے دور کو یاد کر رہے ہیں یاد تو تب کیا جائے گا نا جب بھول پائیںگے.... مشرف کی کپتانی میں جناب کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے وطن عزیز میں آٹھ دس سال جو کھیل کھیلے‘ وہ بھولنا آسان نہیں ہے ”بگٹی کو قتل کیا گیا‘ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو رسوا کیا گیا‘ دو بارآئین توڑا گیا‘ چیف جسٹس آف پاکستان کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا‘ وکیلوں کی درگت بنائی گئی‘ ڈالروں کے عوض محب وطن پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا.... ہاں ایک اچھا کام ریسکیو 1122 نظر آیا.... لیکن ایک ایسا بھیانک جرم‘ گناہ عظیم کیا گیا جس نے ہمیشہ کےلئے کالک مل دی.... لال مسجد و جامعہ حفضہؓ کا سانحہ‘ کہ دوسری کربلا برپا کر دی گئی سینکڑوں پاکباز بچیوں کو فاسفورس بموں سے پگھلا‘ جلا دیا گیا کہ کسی کے سر کا حصہ مل رہا تھا‘ کسی کی انگلیاں اور کچھ گندے نالے سے .... باہر آنے والی طالبات میں سے کتنی ہی غائب ہو گئیں جن کا آج تک پتہ نہیں.... لاکھ کہیں کہ ہم نے اختلاف کیا تھا‘ مشورہ نہیں کیا گیا مگر یاد رکھیئے کہ ”ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظلم میں برابر کا شریک ہوتا ہے“۔ ”میں نے تمام فیصلے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد کئے‘ کسی کو اختلاف تھا تو غیرت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے مستعفی ہو جاتا“ جی ہاں یہ اسی جنرل مشرف کا بیان ہے جنہیں دس بار باوردی صدر بنانے پر تلے بیٹھے تھے کہ انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں تھا۔ شریف برادران کا حامی نہیں کہ ”چینی بحران“ پر عوام خوب جانتے ہیں کہ کیسے بے وقوف بنایا گیا.... مگر جناب بھی توعرض کریں ”رابرٹ فارم“ اور ہائی کے جاری کردہ اس نوٹس کے بارے میں کہ اربوں....؟ آگے سمجھدار ہیں۔ یہاں حمام میں سب ہی ننگے ہیں کہ دودھ سے نہایا کوئی بھی نہیں۔ (شبر علی چنگیزی .... 0333-3636499)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں