مسئلہ کشمیر کا حل .... OiC ممالک سے بھارتی باشندوں کا انخلا
ـ 27 جنوری ، 2012
مکرمی! بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والی 38ویں او آئی سی کانفرنس کے دوران کشمیر پر منظور کی جانے والی قرارداد پر ردِعمل میں کہا۔ ہم نے افسوس کے ساتھ اس بات کو نوٹ کیا کہ او آئی سی نے ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر اور بھارت کے اندرونی معاملات کو موضوع بحث بنایا ہے اور ہم اِن قراردادوں و حوالہ جات کو مسترد کرتے ہیں اور کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کےساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ او آئی سی کو ہمارے داخلی معاملات پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ OiC سے ستاون اِسلامی ممالک وابستہ ہیں۔ اِسوقت میرے خیال میں اِن 57 اسلامی ممالک میں لاکھوں نہیں کروڑوں بھارتی باشندے بسلسلہ روزگار و کاروبار اِن ممالک میں مُقیم ہیں۔ جو ہر ماہ کم و بیش اربوں نہیں کھربوں میں زرمُبادلہ کی شکل میں اپنے ملک روانہ کرتے ہیں۔ جو بھارتی معیشت کو مضبوط مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ او آئی سی بھارت کے اس مُسترد کردہ بیان کو تمام اسلامی ممالک OiC اپنی غیرت اور وقار کا مسئلہ بناتے ہوئے 39ویں کانفرنس کا ہنگامی طور پر انعقاد کرے اور ایک جُرات رندانہ قرارداد منظور کر کے بھارت کو چھ ماہ کی ڈیڈ لائن دے کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں چھ ماہ کے اندر اندر اقوامِ مُتحدہ کی قراردادوں کے مُطابق عمل کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کروائے وگرنہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد تمام رُکن اِسلامی ممالک سے بِلاامتیاز بھارتی باشندوں کا انخلاءشروع کر دیں گے۔ ایسی قرارداد پاس ہونے سے دُنیا دیکھے گی کہ بھارت بھر کھلبلی مچ جائےگی۔ اِس سلسلہ میں میری پاکستانی حکام سے کشمیریوں کے مُستقبل اور اپنی شہ رگ کے پائیدار حل کےلئے اپنے اللے تللوں کو چھوڑ کر کر دُوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی طرح اپنے ہاں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی 39 کانفرنس منُعقد کرے اور قرارداد کو کامیاب بنانے کےلئے ابھی سے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور دُوسرے سفارتی وفود تمام اِسلامی ممالک کا دورہ کریں اور قرارداد کی کامیابی کےلئے سر توڑ کوشش کریں۔ (رانا ریاض احمد ساہیوال )
میڈیا کی ذمہ داری
مکرمی! میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ میڈیا کام کام رائے عامہ کو تشکیل دینا ہے جیسا کہ آجکل ٹی وی پر خصوصاً پرائیویٹ چینلز پر جو ڈرامے پیش کئے جا رہے ہیں ان میں کثرتاً شرکیہ جملوں کا استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے جبکہ شرک ہمارے دین اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں صرف ایک اللہ کی عبادت پر زور دیا گیا ہے لہٰذا میری تمام اہل اسلام اور میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ ٹی وی ڈراموں میں استعمال ہونے والے شرکیہ جملوں سے گریز کریں۔(عروج سلطان، شعبہ ابلاغیات، گورنمنٹ فاطمہ جناح چونا منڈی کالج برائے خواتین، لاہور)
ریکارڈ کی درستگی کیلئے
مکرمی! 13 جنوری کی اشاعت میں کوکب خواجہ کے سفر نامہ حج بعنوان ”جب بلاوا آتا ہے“ کا آغاز ”وادی بیدہ (جنات کی وادی)“ سے ہوا ہے۔ میرے ایک دوست سردار محمد اسلم قصوری بھی امسال حج کر کے تشریف لائے ہیں اور انہوں نے بھی یہ سارے عجائبات اسی طرح بتائے ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ اس وادی کا نام ”وادی بیدہ“ نہیں بلکہ ”وادی بیضہ“ ہے کیونکہ یہ بیضوی شکل میں ہے جس کے اردگرد پہاڑ ہیں۔(محبوب عالم تھابل، شہاب ٹاﺅن، بند روڈ، لاہور۔ فون: 0313-7576257)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں