مکرمی! اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مملکت پاکستان اپنی 63 سالہ مختصر تاریخ میں متعدد بار غیر متوقع نازک ادوار میں سے گزرتی رہی ہے قائِداعظمؒ کی وفات حسرت آیات کا مرحلہ اس وقت پیش آیا جب قوم کو ان کی رہنمائی کی ضرورت دورِ ماضی سے کہیں بڑھ کر تھی اور تقسیم ہند کے جاں گ±سل مرحلے کے مابعد اثرات سے نبٹنے کے لئے جس فراست اور معاملات فہمی کے لئے جس بصیرت اور دور اندیشی کے لئے حالات تقاضا کر رہے تھے وہ اگر مفقود نہیں تو کم یاب ضرور رہی ! قیادت کا یہ بحران دردِ سر نہیں کئی بار دردِ جگر بنا رہا!
یہ ہماری بدقسمتی کہ ہم مسلسل بھارت کی ہمسائیگی کے عذاب میں مبتلا ہیں جس سے نجات شاید ابدالآباد تک ممکن نہ ہو!۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا زخم جہاں بھارت کے عناد اور اس کی ضربِ کاری کا مرہون منت ہے وہاں ہماری قیادت کی سیاسی غلطیوں اور ہمارے حکمران طبقات کی کھلی بے انصافیوں حقوق تلفیوں اور حد سے متجاوز حرص اقتدار اور انسانی شرف وتکریم کے برعکس رویوں متکبرانہ سلوک جو فرعونگی حکمرانوں کا شیوہ تھا اور ورثے میں ہمارے نیم افرنگی افسر شاہی کو حاصل ہوا تھا، اس قومی اور ملی المیہ کا ذمہ دار تھا!
یہ زخم تو غیر مندمل ہی رہے گا مگر افسوس کہ اس کے ساتھ وابستہ داستانِ الم جس کے اندر ہماری رہنمائی کے لئے نہایت قیمتی اسباق مضمر ہیں۔ ہماری لوحِ حافظہ سے محو ہو چکی ہے اور آج ہم ان اسباب سے دامن چھڑانا کیا معنی جو ہماری جمعیت و یکجہتی کے لئے ضرب کاری ثابت ہوئے تھے، انہیں حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں اور تلافی¿ مافات کی فی الحال کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ اگر فی الواقعہ صورت ِ احوال بدستور یہی رہی تو منطقی طور پر ہم ان نتائج.... ہولناک نتائج سے کیسے بچ سکیں گے جن کا نظارہ تمام عالمِ کفر نے بہ صد اطمینان و مسرت کیا تھا۔ مغربی پاکستان میں صفِ ماتم بچھ گئی تھی اور سیلِ اشک ہائے ندامت سے ہر شخص کا دامن تر تھا۔
میری نظر میں آج حالات دسمبر 71ءکی نسبت کم فرسا روح اور یاس انگیز نہیں۔دوستی کے لبادہ میں پورا یورپ، امریکہ اسرائیل اور بھارت ہمارے گھر کے آنگن میں دندنا رہے ہیں، ہمارا ہم مذہب ہمسایہ افغانستان ہمارے دشمنوں کے لئے Safe haven اور ان کی ایجنسیوں کے لئے تربیت گاہ، اور ان کے گماشتوں کے لئے جو پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں محفوظ پناہ گاہ ہیں مہیا کر رہا ہے۔ منافقت کی انتہا ہے کہ ہمارے مقتدر آقا¶ں کے ساتھ بغل گیر ہو کر ہمیں دوستی کی یقین دہانی کراتا ہے مگر یہ سیوا جی کی طرح جس نے بغل گیر ہو کر افضل خان کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا تھا، اس سے ہرگز مختلف نہیں۔
بلاشبہ ہماری افواج، سرفروش، جانباز، جذبہ¿ جہاد سے سرشار ہیں اور بیرونی حربی جارحیت کا دفاع کر سکتی ہیں مگر وہ ملی امراض جو ہماری ارواح کی توانائیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ، ہمارے اتحاد جمعیت اور یکجہتی کے لئے عظیم خطرات کے حامل ہیں اور جن کے بارے میں حضرت اقبالؒ فرما گئے ہیں۔
تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں!
ہمارے دین نے ہمیں مساوات مواخات، باہمی خیر خواہی، ایثار، اور نرم روی، انکسار اور معاف کرنے کا سبق دیا، باہمی اختلافات کے حل کے لئے قرآن اور اسوہ حسنہ کی طرف رجوع کا حکم دیا، حسب و نسل، رنگ اور زبان کے اختلافات سے بچنے کی تلقین کی، تقویٰ، خشیت الٰہی، اور احسن کردار وجہ¿ فوقیت قرار دیا، ملی اتحاد و جمعیت کا سبب مذہبی ہم آہنگی قرار دی اور نادار اور مفلس لوگوں کے حفظ حقوق کو خوشحال لوگوں کے فرائض قرار دے کر معاشرتی مساوات امن وامان کی راہ ہموار کر دی۔ جس ملت کے ورثہ میں یہ عظیم الشان سرمایہ موجود ہو اس کو صوبائی، نسل، زبان اور لباس کے امتیازات تقسیم کردیں تو حیف ہے ایسی سلمانی پر!۔
حصولِ پاکستان کی تحریک میں بتکدہ¿ ہند میں 100 ملین لاالٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی وارث امت متفقہ طور پر متحدہ اسلامی مملکت پاکستان کے حق میں اپنے سارے کارڈ استعمال کر چکی ہے۔
ہمارے لئے اب وجہ¿ تفاخر کچھ ہو سکتا ہے تو وہ ہمارا آفاقی دین ہے جو ہماری رہنمائی کے لئے مکمل طور پر کافی ہے، ہمارے نبیﷺ جو انبیاءو رسل کے خاتم اور سارے جہانوں کے لئے رحمت ہیں اور ہمارا معبود رب العالمین جو بحرو بّر کا بلاشرکت غیرے مالک ہے، ان کے علاوہ ہمارے لئے قابل فخر دنیا جہاں میں کوئی چیز نہیں! آج اس آئینہ میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ہمیں کیا ہونا چاہئے تھا اور کیا ہوگئے ہیں؟۔
کیا ہماری ملکی صورتِ احوال یہ تقاضہ نہیں کرتی کہ ہم تحریک پاکستان کے اسی جذبے کا احیاءکریں جس نے ہمیں اخوت کی جہاں گیری اور محبت کی فراوانی سے آشنا کیا اور جب ہم بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوگئے تھے اور نہ کوئی سندھی رہا تھا، نہ پنجابی، نہ پختون، نہ بلوچ اور نہ بنگالی!
ملی اتحاد اور اس کی رہنمائی کے لئے جو کام پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت کی ذمہ داری تھا، اس سے مجرمانہ تغافل روا رکھا گیا اور نظریہ پاکستان کے عملی تقاضوں سے ایک افسوسناک تسلسل ہماری روایت بن کر رہ گئی!۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور ابوانِ کارکنان تحریک پاکستان سے وابستہ رہنماوں نے قوم کے سامنے قابل تقلید مثال قائم کر کے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے مگر اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لئے وسیع پیمانے پر عوامی اور حکومتی تعاون کی ضرورت اظہر من الشمس ہے۔
میں کہ میری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ میری تمام سر گزشت کھوئے ہووں کی جستجو
پروفیسر (ر) ڈاکٹر محمد اسلم بھٹی