صوفی شاعروں نے عربی اور فارسی کے الفاظ استعمال کئے
ـ 26 جنوری ، 2012
مکرمی! جناب اثر چوہان نے اپنے کالم ”سیاست نامہ“ میں لکھا ہے کہ ”پنجابی کے پہلے صوفی شاعر بابا فرید گنج شکرؒ سے لیکر خواجہ غلام فریدؒ تک اور ان کے بعد بھی صوفی شاعروں نے پنجابی زبان میں جو شاعری کی اس میں سینکڑوں عربی، فارسی اور اُردو کے الفاظ استعمال کیے لہٰذاجو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پنجابی زبان سے اُردو، فارسی اور عربی کے الفاظ نکال کر سِکھّی پنجابی (گُرمکھی) کے الفاظ شامل کئے جائیں، ان کو چاہئے کہ وہ اپنے نام بھی تبدیل کر لیں چونکہ وہ زیادہ تر عربی میں ہیں۔ مثلاً سلیم، آصف، جمیل احمر، نبیلہ رحمن، سید جعفری، افتخار، اظہر وغیرہ“ اثر چوہان صاحب سے میں مکمل طور پر متفق ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پنجابی زبان کے اصل دشمن پنجابی ہیں۔ پنجابی زبان کے صوفی شاعروں بابا فرید، وارث شاہ، شاہ حسین، حضرت سلطان باہو، میاں محمد بخش، مولوی غلام رسول، ہاشم شاہ اور دیگر صوفی شاعروں نے نہ صرف اپنی شاعری میں عربی اور فارسی الفاظ استعمال کیے بلکہ ان صوفیاءکرام کا عربی اور فارسی زبان کا وسیع مطالعہ تھا۔ پنجابی زبان کا ایک شاعر آصف شاہکار ان دنوں سویڈن سے لاہور آیا ہوا ہے۔ لندن کے معروف ترقی پسند شاعر بخش لائلپوری (اب مرحوم) نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”آصف شاہکار کا کہنا ہے اس نے واہگہ کا بارڈر ختم کروا دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے میری بات تسلیم کر لی ہے، بل کلنٹن انکار نہیں کر سکتے۔ نواز شریف اور واجپائی مٹی کے مادھو ہیں اور یہ ہمیشہ میرے دباﺅ میں رہتے ہیں۔ میں نے پنجابی زبان کا ریڈیو سٹیشن قائم کر دیا ہے جس پر پانچ لاکھ پونڈ خرچ ہوگئے ہیں۔ پنجاب کے سکھ اور گرو کے پانچ پیاروں کے نام سے مجھے دل کھول کر چندہ دو“ واضح رہے کہ آصف شاہکار نے یہ باتیں سکھوں کو کہیں۔ اس وقت میاں نواز شریف وزیراعظم تھے۔ آصف شاہکار نے اگست 2011ءکو کینیڈا میں ہونے والی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی تھی جہاں بھارتی اور پاکستانی پنجابی کا پرچم لہرایا گیا۔ اس کانفرنس میں لاہور کے بعض پنجابی کے پروفیسروں نے بھی شرکت کی اور پرچم کے لہرانے پر احتجاج نہیں کیا۔(تنویر ظہور ۔ ایڈیٹر سہ ماہی سانجھاں، لاہور)
عوام کواب تازہ گندم کا آٹا نہیں ملے گا
مکرمی! بلاشبہ پاکستان میں بجلی گیس پانی کا بحران اپنے عروج پر ہے مگر عقل کی (مینا) یہ ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ عوام کو اب اپنے ملک کی تازہ گندم کے آٹے سے بھی محروم ہونا پڑے گا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسکی آبادی کا تقریباً 70% حصہ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے مگر جناب پھر بھی یہ پیشن گوئی لطیفہ نہیں جسے سن کر نظرانداز کر دیا جائے۔ کہ جب اپنے ہی فلور ملز کے رہنما یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ آئندہ مستقبل میں پاکستان کی عوام کو کبھی بھی تازہ گندم کا آٹا میسر نہیں ہو گا۔ انکو شکوہ ہے کہ کھربوں روپے کی انڈسری کے مالکان گندم کی خریداری اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے اور نہ ہی آٹے کا ریٹ خود مقرر کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت ملز مالکان کو دونوں اختیارات دے دے تو شاید واقعی عوام کو تازہ آٹا نہ مل سکے قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہی رہنے دیں۔ (نیر صدف دھرم پورہ لاہور)
سیاست میں ناکام انسان
مکرمی! ملکی سیاست مارشل لاءیا جمہوریت مےں حصہ لینے والے لالچ، ہوس کے مارے، اقربا نوازی، کنبہ پروری، تعصب، نفرت، غرور، تکبر، ظلم ، ناانصافی، سازشیں، وعدہ خلافی کرنے والے، کرپشن، بدعنوانی، کمیشن کھانے مےں ملوث لوگ حقیقت مےں ناکام انسان ہوتے ہےں۔ عوام کی بدحالی کا سبب بنتے ہےں۔ (مارشل لاءلگانے والے سرکاری ملازمین اور عوام کے منتخب نمائندوں کو قوم کے خزانے سے تنخواہ و الاﺅنس ادا کیے جاتے ہےں)۔ سیاست.... ذاتی مفاد سے بالاتر دیانتداری، مخلص بے لوث طریقے سے عوام کی عزت و حرمت، بہتری، بھلائی، امن، تحفظ، خوشحالی کے لئے خدمت کرنے کا نام ہے۔
عبادت ہے روحانیت ہے
اپنی ذات اور دوسروں کے لئے باعث رحمت ہے
(رانا احتشام ربانی، اوکاڑہ فون: 0300-9424927)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں