صحنِ گلشن میں صبا پھرتی ہے صرصر کی طرح
ـ 26 جنوری ، 2010
مکرمی! آپ کے اخبار کی اشاعت مورخہ 14-01-2010 میں ناظم اقبال اکیڈمی سہیل عمر کے خط کے حوالے سے عرض ہے کہ میں ایوان اقبال بزمِ خواتین کی اعزازی چیئرپرسن ہوں قوت سماعت سے محروم ہوں معذور ہونے کے باوجود میں نے صحافت اور ادب میں اپنا مقام بنایا ہے (یہ بہت لمبی داستان ہے) یہ سب علامہ اقبال سے محبت اور عقیدت کا اعجاز ہے۔ میرے خیال میں بزم خواتین کی تمام ممبران خواتین اپنی اپنی جگہ اعزازی چیئرپرسن کا درجہ رکھتی ہیں یہ سب معزز خواتین علامہ اقبال سے عقیدت کے طور پر خواتین کے ہر اجلاس میں شامل ہوتی ہیں۔ ہمارا اجلاس ہر پندرہ دن کے بعد ہوتا ہے جس میں مرزا محمد منور صاحب جیسے اقبال شناس کی صاحبزادی نزہت صلاح الدین کے علاوہ معزز گھرانوں کی خواتین یونیورسٹی کالج کی پروفیسرز سکولوں کی اساتذہ، نوآموز شاعرات، ادیبہ اور مصوری سے شعف رکھنے والی خواتین اور طالبات شامل ہوتی ہیں۔ اسلم کمال صاحب اس بزم کے ڈائریکٹر ہیں جنہیں مصور اقبال ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ناظم اقبال اکیڈمی سہیل عمر نے نوائے وقت کی 14 جنوری کی اشاعت میں اپنے مراسلے میں جہاں اسلم کمال کو رگڑا ہے وہیں انہوں نے بزم خواتین کی ممبران کے بارے میں بھی انتہائی نازیبا الفاظ کہے ہیں جس سے ہماری بہت دل شکنی ہوئی ہے۔ بزم خواتین کے اجلاس میں شامل ہونے والی تمام خواتین، بچیاں معزز اور شریف گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں ہماری بزم میں علامہ اقبال کی شاعری کے علاوہ اور کوئی بحث نہیں ہوتی۔ اسلم کمال ہمارے لئے ایک راہبر کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے بزرگ ہیں۔ سہیل عمر صاحب نے غالباً کسی ذاتی رنجش کی بناءپر اسلم کمال کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے تو ساتھ ان معزز خواتین کے بارے میں بھی دروغ بیانی سے کام لیا ہے۔ سہیل عمر کے ان ریمارکس پر ہمیں بہت رنج ہوا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بزم خواتین میں شریک ہونے والی خواتین کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ جعلی خطوط کے ذریعے خودکش بمبار کے ہاتھوں ایوان اقبال میں داخل ہونے والی خواتین کو بم دھماکوں سے اڑانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ (احقر کو بھی لفٹ میں پڑا ہوا ایک ایسا ہی خط مل چکا ہے) تاکہ خواتین خوفزدہ اور دل برداشتہ ہو کر اجلاسوں میں شریک ہونا چھوڑ دیں۔ میں فرزند اقبال سابق چیف جسٹس جناب ڈاکٹر جاوید اقبال سے استدعا کرتی ہوں کہ وہ ناظم اکیڈمی کی اس ہرزہ سرائی کا از خود نوٹس لیں اور ان کی بیگم محترمہ ناصرہ جاوید صاحبہ ایک خاتون جسٹس ہونے اور علامہ اقبال کی بہو ہونے کے ناطے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔(گلشن عزیز اعزازی چیئرپرسن خواتین بزم اقبال ایوان اقبال لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں