قومی کرکٹ کی اصلاح کیسے ہو

ـ 25 نومبر ، 2009
مکرمی! قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے آپس کے روزانہ کے جھگڑے بار بار کپتانی کی تبدیلی کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہےں تو اس کی سب سے بڑی ایک وجہ کھلاڑیوں کا کم پڑھے لکھے ہونا، دوسرے حسد اور جب کارکردگی نہ ہو تو گروپ بندی کرنا کپتان کا ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے علاقہ اور پسند کے کھلاڑیوں کو نہ صرف کھلانا بلکہ ان کے بیٹنگ آرڈر اور باﺅلنگ مےں غیر ضروری تبدیلی کر کے ان کی کارکردگی کو جان بوجھ کر خراب کرنا جبکہ کھلاڑیوں کی طرف سے بھی غیر ضروری شاٹ اور خراب باﺅلنگ کر کے کپتان کو ناکام کرنا شامل ہے۔
ان تمام باتوں کی اصل جڑ کیا ہے تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کمزور منیجمنٹ اور بورڈ مےں بیٹھے سابق ٹیسٹ کرکٹر جو زمانہ کرکٹ سے زیادہ بہتر اب نہ صرف ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہےں بلکہ بورڈ سے اندھی تنخواہیں بھی لے رہے ہےں۔ چیف آپریٹنگ افسر بطور سلیکٹر سے لے کر اب تک ناکام ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوئے شہد سے زیادہ میٹھے اور ہر آنے والے چیئرمین کی اندر سے جڑیں کاٹنے والے اور ملک مےں امپائرنگ کو برباد کرنے والے خضر حیات جنہوں نے بہت سے جاہل راشی امپائروں کو پروموٹ کر کے شریف ایماندار امپائرز کی جڑیں کاٹی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ مےں راج کرنے والے رانا فیملی اور رشید فیملی ہر دور مےں برسات کی گھاس کی طرح بھری ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ بورڈ کی ہر سیٹ پر ٹیسٹ کرکٹر ہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کرکٹ کے زمانہ مےں تو اچھا ہو لیکن ایڈمنسٹریو معاملات مےں صفر ہو، مےں یہاں قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ اور اسسٹنٹ کوچ کی مثال دیتا ہوں اسسٹنٹ کوچ کےلئے ٹیسٹ کرکٹر نوید انجم سے بہتر کوئی نہیں۔طاہر شاہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر پنجاب یونیورسٹی بلیو ایم اے اکنامکس، ممبر لاہور ریجن کونسل منیجر و کوچ سروس انڈسٹریز ٹیم سابق کپتان اسلامیہ کالج 0333-4226761
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter