صلہ وفا
ـ 25 نومبر ، 2009
مکرمی ! آپ کی وساطت سے عرض ہے کہ پاکستان میں پچھلے 62 برسوں میں چند مخصوص خاندانوں سے لوگ حکومت کرتے آئے جن میں جرنیل بھی پیش پیش رہے۔ تمام صاحبان نے اپنی اعلیٰ سیاسی بصیرت ‘ دور اندیشی ‘ بہترین داخلی و خارجی اور معاشی پالیسی کے تحت نظام حکومت بڑے احسن انداز میں چلایا۔ بڑی بڑی قربانیاں دیں یہاں تک کہ ملک و قوم کے کیلئے بیرونی ملکوں سے بھیک تک مانگتے رہے قرضے لیتے رہے عام شہریوں کو کسی قسم کی زحمت نہ دی‘ اپنے رشتہ داروں کو بیورو کریسی میں اور بڑی بڑی ذمہ دار پوسٹوں پر میرٹ سے آزاد پالیسی کے تحت لگایا تاکہ عوام ان مشکل جھمیلوں میں نہ پڑیں۔ عوام پر اس قدر شفقت رہی کہ ان کو صرف ووٹ ڈالنے کی زحمت دیتے رہے۔ عبادت کو اپنا شعار بنائے رکھا کئی کئی مرتبہ سرکاری خرچ پر حج و عمرے کئے اور خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر جا کر رو رو کر عوام کے لئے دعائیں مانگتے رہے‘ تعمیر و ترقی میں مثال قائم کی یعنی تعمیر کے حوالے سے بڑی بڑی عمارتیں‘ پلازے‘ کوٹھیاں محل بنائے۔ انہیں خاندانوں سے دادا پوتا‘ نانا نواسے‘ داماد اور دوسرے رشتہ دار حکومت میں اپنا اپنا کام کرتے رہے۔ عوامی بھلائی کے کاموں میں بڑے بڑے کارنامے کئے جن کے ثمرات آج بھی عوام تک پہنچ رہے ہیں جن میں روزگار کے مواقع عام ہیں‘ توانائی کا کوئی مسئلہ نہیں‘ مہنگائی سرے سے نہیں ہے۔ گدی نشینی کا یہ سلسلہ چل رہا ہے ان گدی نشینوں نے بہت محنت کی ہے عوام ان پر بہت خوش ہیں اور دعائیں دیتے ہیں اور خوشی میں ان کے لئے بہترین پیکج کا اعلان کرتے ہیں کہ اب یہ خاندانی حکمران آرام فرمائیں یہ بیگار دوسروں کو کرنے دیں اور آئندہ الیکشن میں زحمت نہ فرمائیں۔ عوام نے آپ کو پاکستان اور قوم کے ساتھ اتنی محبت کے صلے میں یہ پیکج دیا ہے اب قوم بادشاہی نظام سے بور ہو گئی ہے اور جمہوریت کا مزہ لینا چاہتی ہے اس الیکشن میں قوم آپ کو زحمت نہیں دے گی۔ (محمد احمد ۔ بچیکی تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں