اپنے اپنے بڑوں کو بچانے کی مےراتھن
ـ 25 نومبر ، 2009
مکرمی! جب چنگےز خان اور ہلاکو خان کی فوجےں بغداد کے دروازوں پر دستک دے رہی تھےں تو وہاں کا مسلمان بغداد کے چوکوں مےں کھڑا کو¶ں کے حلال اور حرام ہونے والے مناظروں مےں مشغول تھا۔ آج وطن عزےز کو چاروں طرف سے اکےسوےں صدی کے چنگےز خان اور ہلاکو خاں کی ےلغار کا سامنا ہے اور ہم بھی عجےب وغرےب مشاغل مےں مصروف ہےں۔ اےک دوسرے کو نےچا دکھانے کے لئے اےڑی چوٹی کا زور لگاےا جا رہا ہے اےک طرف رابرٹ فارم کا شور ےکدم اٹھ کھڑا ہوا ہے تو دوسری طرف اس کی ملکےت سے انکار کا مناظرہ شروع ہوگےا ہے اور بڑھ چڑھ کر الزامات اور صفائےاں ہےں کہ آ اور جارہی ہےں۔ زرداری کی نئی اور پرانی کرپشن اور مائنس ون کے طوفان اٹھائے جارہے ہےں۔ NROسے مستفےد حضرات اپنے اپنے بچا¶ مےں لگ گئے ہےں۔ ایک سے بڑھ کر اےک زرداری کے طرفدار ےہ ثابت کرنے مےں توانائےاں صرف کررہے ہےں کہ زرداری کی صدارت کو کوئی خطرہ نہےں۔ گرانے اور بچانے کے پکے راگوں کا شور ہے کہ تھمنے مےں ہی نہےں آرہا۔ اپنے اپنے بڑوں کے حق مےں اےسی اےسی صفائےاں اور اچھل اچھل کر دلائل دئےے جارہے ہےں جےسے آج کے پاکستان کے ےہی سب سے بڑے مسئلے ہوں۔ پاکستان بچانے کی کسی کو فکر نہےں۔ اپنی اپنی پارٹی کے بڑے بچنے چاہئےں۔ پاکستان رہتا ہے رہے۔ نہےں رہتا نہ رہے۔ کہےں سے فکرمندی کی آواز کبھی اٹھتی ہوئی ہم نے نہےں سنی۔ ادارے گنگ ہےں لےڈران عالی مقام ظہرانوں عصرانوں اور عشائےوں مےں مگن ہےں۔ عوام ہائے چےنی ہائے چےنی کے ساتھ ساتھ اب ہائے گےس، ہائے گےس کی سینہ کوبی مےں مشغول کردئےے گئے ہےں۔ ہمارے آقا نما دشمن ہمارے سروں کے مےنار بنانے کی تےارےاں مکمل کئے بےٹھے ہےں۔ سقوط غرناطہ، سقوط بغداد۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اب کس سقوط کے منتظر ہےں ہم۔ مختصراً اس ساری صورت حال پر درد سے ےہی کہا جاسکتا ہے کہ شرم ہم کو مگر نہےں آتی
محسن امےن تارڑ اےڈووکےٹ لاہور 0331-6442093
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں