پنشن کی ادائیگی کا مسئلہ
ـ 25 نومبر ، 2009
مکرمی! میں ریلوے سے ریٹائرڈ ایک پنشنر نیشنل بنک آف پاکستان مریدکے برانچ سے پنشن حاصل کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل جب بھی پنشن لینے جاتا تو کبھی ریلوے کا فنڈ ختم ہونے کا سنا دیا جاتا ہے اور اگر شروع مہینے میں جاتا تو جواب ملتا کہ ابھی ریلوے کے پیسے نہیں آئے۔ اس کی شکایت میں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پنشن سیکشن کو ایک درخواست سے دی جس پر کوئی کارروائی نہ ہوئی تو میں نے FA+CAO فنائشنل ایڈوائر اور چیف اکا¶نٹس آفیسر ریلوے ہیڈ کوارٹر درخواست دی اس طرح کچھ عرصہ مقررہ تاریخ پر پنشن ملتی رہی۔ لیکن پچھلی عید پر عید سے پہلے تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تو مریدکے نیشنل بنک نے یہی جواب دیا کہ ہمیں رقم نہیں ملی۔ اس دفعہ پھر S-N-09 کو جب پنشن لینے گیا تو جواب ملا کہ ریلوے کا فنڈ ختم ہو گیا ہے بلکہ پچھلے ماہ بھی کچھ لوگوں کو پنشن نہیں مل سکی۔ بنک منیجر صاحب سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ پنشنروں کی تعداد زیادہ ہے لیکن رقم کم ملتی ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک بنک کو جتنے پنشنز کے کیس (Cases) بھیجے جاتے کیا اتنی رقم بنک کو ٹرانسفر نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ بنک منیجر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ رقم کے ساتھ پنشنرز کی کوئی لسٹ بھی نہیں تھی جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ کس کس کی پنشن آئی ہے اور کس کی نہیں آئی۔ اب گزارش یہ ہے کہ مجھ ایسے بوڑھے آدمی کو بنک سے دور رہائش رکھنے کی وجہ سے آنے جانے کیلئے بھی کم از کم 60' 50 روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں جو آج کل مہنگائی دور میں اور بھی بوجھل معلوم ہوتا ہے۔ جناب FA+CAO پاکستان ریلوے سے خصوصی طور پر اور اکا¶نٹس آفیسر پنشن سے پرزور درخواست کرتا ہوں کہ ایک تو Cases کے حساب سے ہر بنک کو رقم بھجوائی جائے اور دوسرے اس کے ساتھ Cases کی لسٹ بھی بھجوائی جائے تاکہ پتہ چلے کہ کس کی رقم آئی۔ (ایم اصغر ریٹائرڈ ریلوے اکا¶نٹنٹ مریدکے )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں