تازہ ترین:

بیتے لمحوں کی چاپ ۔۔ (آپ بیتی)

ـ 25 نومبر ، 2009
پروفیسرسمیع اللہ قریشی ۔۔۔
پروفیسر سمیع اللہ قریشی کی آپ بیتی ”بیتے لمحوں کی چاپ“ کے عنوان سے بُک ہوم سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے صفحات 496 ہیں۔ قیمت 600 روپے ہے۔ انتساب ”فنون لطیفہ کے نام جس کے دم سے دنیا بھر کی جمالیاتی خوبصورتیوں کو دوام حاصل ہے“ ہے۔ دیباچہ ایک غزل ہے جس میں زندگی کے نشیب فراز‘ وقت کی روانی‘ رشتوں کی نشاندہی‘ ماں باپ کی محبت‘ بیوی فرشتہ سرشت‘ دردمند اولاد‘ دوست‘ رقیب‘ بیتے لمحے‘ سب شامل ہیں۔ گویا آپ بیتی ہی اس غزل کے ذریعے بیان کر دی گئی ہو۔ یہ دیباچہ نگاری کا ایک دلچسپ طریقہ ہے جو پروفیسر سمیع اللہ قریشی نے پیش کیا۔
پروفیسر صاحب ”بیتے لمحوں کی چاپ“ میں جہاں زندگی کو بیان کیا وہاں اس کے بیان کا اسلوب نہایت سادہ سلیس رکھا۔ شاعرانہ انداز بھی ہے مگر ایسا کہ جو عام قاری بھی سمجھ لیتا ہے۔ انگلش جملے بھی ہیں لیکن ضرورت کے مطابق استعمال کئے ہیں۔ اس طرح اشعار کا بھی برمحل استعمال بھی ملتا ہے۔ آپ نے شخصیات کی خاکہ نگاری بھی عمدہ طریقے سے کی ہے۔
”جب میں نے اپنی عمر کے 73 سال پورے کئے اس پر مَیں اپنی خود نوشت سوانح کو ختم کرتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ اللہ نے مجھے محض اپنے فضل سے ایک اچھی‘ باوقار اور مطمئن زندگی گزارنے کی توفیق دی جس میں میرے والدین کی دعا¶ں کا بے حد دخل رہا ہے۔ میں جو کچھ بھی ہوں اس کے پیچھے میرے یہی پیارے وجود تھے۔“ (ص 480)
پروفیسر سمیع اللہ قریشی کی اس کتاب میں ایک انکشاف بھی بڑی رواروی اور خفی انداز میں کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے آبائی قصبہ قادیان میں ایک نرس تھی فضل بی بی جو کہ احمدیہ ہسپتال کی ملازمہ تھی اس کے دو بیٹے سُریش اور مکیش کے نام سے بمبئی کی فلمی صنعت میں بڑے نامور ہوئے۔ سریش مدھو بالا کے ساتھ فلموں میں ہیرو آیا اور مکیش مشہور گائیک بنا۔ (صفحہ 21) ۔ اس کے علاوہ بہت سے اور لوگوں کے نام اور شجرہ نسب بھی اس کتاب سے معلوم ہوئے جو کہ پروفیسر صاحب نے بیان کئے ہیں۔ کتاب بہت ہی دلچسپ مشاہدات اور تجربات پر مشتمل ہے جسے پروفیسر صاحب نے سادگی سے بیان کیا ہے۔
(تبصرہ نگار : پروفیسر شائستہ حمید خان‘ ریسرچ سکالر پی ایچ ڈی)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں