ضابطہ حیات!
ـ 25 جنوری ، 2012
مکرمی!نیوزی لینڈ ایک چھوٹی سی ریاست ہے جس کے پاس پاکستان کی طرح قدرتی معدنیات کی فراوانی ہے نہ بڑے بڑے دریا ہیں اور نہ ہی چار موسم پھر بھی یہاں کا شہری انتہائی خوش اور مطمئن ہے۔ شاید یہ وجہ ہے کہ یہاں کا حاکم بددیانت نہیں اور سپریم کورٹ سے لیکر لوکل عدالت میں جرم و سزا کا نظام نہ صرف آلائشوں سے پاک ہے بلکہ فوری اور کڑا ہے جس میں حاکم اور عام شہری میں کوئی تفریق نہیں اور عوام بھی جھوٹ دغا فریب اور بددیانتی جیسے افعال سے اپنا دامن صاف ہی رکھنا چاہتے ہیں، وزیر اعظم ہو یا کوئی وزیر مشیر یا پارلیمنٹ کا ممبر شہر کا میئر ہو یا کونسلر کسی کی گاڑی پر نہ تو کوئی خصوصی جھنڈا ہے اور نہ ہی پروٹوکول کے چونچلے نہ عوام کی امراءکے ہاتھوں تذلیل ہے اور نہ ہی گارڈز کا جھنجھٹ‘ قرآن ضابطہ حیات تو ہم مسلمانوں کیلئے ہے لیکن اس پر غیر مسلم عمل کرکے اپنی زندگیوں کو جنت نظیر بنا رہے ہیں، ہمارے پاس ہمہ وقت موقع پر ہے کہ ضابطہ حیات پر عمل پیرا ہو کر مسائل سے جان چھڑا سکتے ہیں۔(محمد ارشد خان ہزاروی، نیوزی لینڈ،Email: vintaghort.ltd@gmail.com)
دشمن کے ساتھ تجارت
مکرمی! بھارت نے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان اور افغانستان کے سفارتی شعبوں میں جاسوسی کے بھارتی نیٹ ورک کو مزید توسیع کردینے کی غرض سے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے خفیہ فنڈز میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت نے سفارتی مشن کیلئے اردو سندھی اور پشتو زبان بولنے والے افراد بھارت کے مختلف شہروں سے بھرتی کئے ہیں۔ ایسے دشمن کو ہمارے عقل و بے بہرہ حکمران پسندیدہ ملک قرار دے رہے ہیں اور کروڑوں کے خسارے کی تجارت کر رہے ہیں۔ ان کم بختوں کو کوئی سمجھائے ایسے دشمن ملک سے تجارت اور تعلقات سے باز آجائیں۔(جمشید احمدادارہ تحفظ پاکستان 0333-4055649)
جو راہزن کا کام تھا‘ وہ راہبر کر گئے
مکرمی! آج کل کے اساتذہ کرام اور اکیڈمی اونرز نے راہبر کی بجائے راہزن کا کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ سٹیٹ سیشن کے نام پر والدین سے لمبی لمبی رقمیں وصول کرکے امتحان میں کامیابی کی میٹھی گولی سے نہ صرف وہ بچوں کی ریگولرٹی (سکول) خراب کر رہے ہیں بلکہ کسی حد تک بچوں کے تعلیمی معیار کو تباہ کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ اکیڈمی یا ٹیوشن سنٹر پورے سال کے لئے اور بات ہے لیکن یہ موسمی بزنس جو کسی طرح بھی فائدہ مند نہیں نہ تعلیمی اعتبار نہ لوگوں کے معاشی اعتبار سے اس پر پابندی لگائیں تاکہ بچے باقاعدہ طور پر سکول جائیں اور اپنے اساتذہ سے فیض یاب ہوں۔(ریحانہ سعیدہ لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں