بڑی مشکل ہے
ـ 25 جنوری ، 2010
مکرمی! حکمران اگر کچھ کر گزرنے پر آئے تو امام خمینی یا مہاتیر محمد بن جاتا ہے اور اگر صرف اقتدار کے مزے لوٹتے ہوں تو رضا شاہ پہلوی یا یحییٰ خاں کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور اگر حکمرانوں میں نیک نیتی کا فقدان ہو تو قومیں تباہ و برباد ہو جایا کرتی ہیں۔ حکمرانوں کو عمرِ فاروقؓ اور عمر بن عبدالعزیز کے طرزِ حکمرانی کی تقلید کرنی چاہئے تاکہ قوم فلاح کے راستے پر گامزن ہو جائے۔
عدل و انصاف دہلیز پر میسر ہو‘ وسائل کی مساویانہ تقسیم کا نظام فروغ پائے‘ ہر صاحبِ اقتدار‘ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے سے گریز کرے۔
حکمرانوں کو یہ احساس ہمیشہ رہنا چاہئے کہ جو ذات منقسمِ عزت ہے‘ ذلت بھی اُ¿ی کے دستِ قدرت میں ہے۔ سورہ¿ الفجر میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں، ترجمہ (تو نے دیکھا نہیں کیا کیا تیرے رب نے عادِ ارم کے ساتھ جو بڑے ستونوں والے تھے، اور اپنے زمانے کی قوموں میں کوئی انکی ٹکر کا نہ تھا، اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی¿ القریٰ میں پہاڑ تراش کر عمارتیں بنائی تھیں اور فرعون کے ساتھ جو بڑے لاﺅ لشکر والا تھا؟ انہوں نے دنیا میں سرکشی برپا کی اور فساد پھیلایا، آخر تیرے رب نے عذاب کا کوڑا اُن پر پھٹکار دیا خوب جان لے کہ تیرا رب قوموں کے اعمال پر ہر وقت نظر رکھتا ہے) اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (شفقت حسین0321-6912782)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں