این آر او اور مستقبل کا خطرہ
ـ 24 نومبر ، 2009
مکرمی! این آر او کے حوالے سے مستقبل قریب مےں جو قومی منظر نامہ ابھرتا نظر آتا ہے اس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چودھری کی زیر قیادت اعلیٰ عدلیہ معاشرے کی دیرینہ خواہش اور ضرورت کے پیش نظر اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے تمام مستفید ہونے والے مقتدر لوگوں کےلئے کارروائی کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کےلئے اور کرپشن کے سرطان سے معاشرے کو ممکن طور پر نجات دلانے کےلئے بڑے بے رحمانہ اور سخت مگر عمودی اور افقی سطح کے احتساب کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے لیکن اربابِ حل و عقد نے اس کی آڑ مےں کبھی اپنے ذاتی اقتدار کو طول دیا تو کبھی اسے Political Black Mailing کا ذریعہ بنایا اور کبھی انتقام کی بدترین صورت مےں اس نعرے کو استعمال کیا گیا جو بذات خود ایک قابل مواخذہ برائی تھی لیکن اب کی بار محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اس برائی کا ایکشن ری پلے نہیں ہوگا بلکہ پوری سنجیدگی اور کمٹمنٹ سے ایک اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کےلئے اعلیٰ عدلیہ ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہی ہے جو آئندہ ہمارے معاشرے کی نفسیات اور اندازِ فکر و عمل پر گہرے نقوش مرتب کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر ناروا بوجھ جس کے تلے مخلوق خدا کچلی جا رہی ہے۔ ہٹا دیا جائے اور آزاد فضا مےں قومی زندگی کا سفر ایک نئی صبح کی آمد کے ساتھ شروع ہو سکے جس کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا اور جس کو حقیقت کا روپ دینے کےلئے قائداعظمؒ صاحب نے بے مثال کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی کی منزل سر کی تھی۔ سلطان احمد مونگ، منڈی بہاﺅالدین 0334-4919962
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں