ہندو کا بھیانک چہرہ اور ہماری دوستی

ـ 24 جنوری ، 2012
مکرمی! ہندو قوم بھارت کو اپنی ”جنم بھومی“ قرار دیتی ہے کہ ہند کی زمین ان کی جائے پیدائش ہے مگر تاریخ شاہد ہے کہ ہندو قوم باہر سے وارد ہوئی تھی، بھارتی اصلی باشندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے، انہیں ویرانوں اور جنگلوں میں پناہ لینی پڑی، جو باقی رہ گئے، ہندوﺅں نے انہیں جانوروں سے بھی نیچے کا درجہ دے دیا، انہیں ملیچھ، شودر اور اچھوت کہا گیا۔ ان کے ساتھ چھونا بھی ناجائز سمجھا جاتا۔ ذات پات کی تقسیم برہمن، کھشتری، ویش اور شودر میں شودر کو کم ترین کا مقام ملا، جو اب تک یہ تفریق پائی جاتی ہے ان کی متبرک کتاب ”منو“ میں لکھا ہے ”شودر اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں جن میں کوّے، بطخیں، مینڈک، کتے اور بار برداری کے دیگر جانور ہیں، اونچی ذات کے ہندوﺅں کیلئے جائز ہے کہ وہ شودر کے مال کو دھوکے سے چھین لیں، ذات پات کی تقسیم و تفریق تو ایک طرف وہ کسی دوسری قوم کے وجود کو برداشت نہیں کرتے۔ سیکولر ازم صرف ایک ملمع سازی ہے، ہندو کا اندرون چہرہ بڑا بھیانک ہے، وہ مسلمان کا وجود کسی صورت برداشت نہیں کرتے۔ ہندو دھرم میں 33 کروڑ ے زیادہ دیوتے اور دیوتیاں پوجا کی جا رہی ہیں۔ ان کا گیت ”بندے ماترم“ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے، آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی کا کہنا ہے: کہ گائے ماتا کے گلے پر چھری پھیرنے والوں کیلئے ہمارے دل میں رحم کا کوئی جذبہ نہیں۔ بھیشم کے سپوتو، ارجن کے دلارو اگر ایک گائے کے ذبح ہونے کیلئے کراچی سے مکہ تک کے مسلمانوں کو قتل کرنا پڑے تو کر دو، ایسی متعصب، گندی اور بیہودہ قوم سے پاک قوم کی دوستی کیسے ہو سکتی ہے؟(چودھری نور احمد نور (ر) پرنسپل، گوجرانوالہ)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں