سیاسی جماعتیں اور مارشل لا کا انداز

ـ 22 اکتوبر ، 2010
مکرمی! جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جمہوری سیاسی جماعتیں خود اپنے دور حکومت میں بلدیاتی اداروں میں مارشل لا لگا دیتے ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں میں سرکاری ملازم بطور ایڈمنسٹریٹر بیٹھے ہوتے ہیں۔ جن کا رویہ مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کا سا ہوتا ہے۔ جمہوری سیاسی جماعتوں کا دورخی رویہ کیا مارشل لاءکی مخالفت صرف اپنے اقتدار کےلئے کی جاتی ہے؟ اور اقتدار میں آنے کے بعد وہی انداز وہی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔
(رانا احتشام ربانی .... پوسٹ بکس نمبر 01، جی پی او اوکاڑہ فون: 0300-9424927)
پتنگ بازی ایک قابل نفرت کھیل
مکرمی! گذشتہ روز دھاتی ڈور پھرنے سے ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہو گیا۔ پتنگ بازی ایک خونیں جان لیوا اور قابل نفرت کھیل ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض نام نہاد‘ خود ساختہ اور جعلی تنظیموں اور افراد کی جانب سے 20-19 فروری 2011ء کو پتنگ بازی کا یہ خون آشام کھیل (بسنت) منانے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ جبکہ معزز عدالت عظمیٰ پاکستان کے صادر کردہ احکامات کے مطابق پورے ملک میں پتنگ سازی (سامان) پتنگ فروشی اور پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ معزز عدالت عظمیٰ پاکستان کے صادر کردہ احکامات کی روشنی میں ایسے اعلانات کرنے والے افراد اور نام نہاد خود ساختہ اور جعلی تنظیموں کے خلاف محاسبہ ضروری ہے۔
شہزاد احمد شیخ لاہور
مظلوم کی آہ
مکرمی! سانحہ سیالکوٹ شاید پاکستان کی تاریخ کا المناک واقع ہے۔ قوم کے دو معصوم بچوں کو ماہ رمضان میں کئی گھنٹے تشدد کرکے شہید کر دیا گیا۔ اب یہ باتیں منظرعام پر آ چکی ہیں کہ مجرم بچوں کو مارنے کیلئے ڈنڈے لے کر چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے جتنے بھی مجرم پکڑے گئے ہیں ان کے نام کے ساتھ عرف لگتا ہے۔ یہ بدنامی کی علامت ہے مجرموں اور بدنام لوگوں کا پولیس سے رابطہ ہوتا ہے یہ مجرم شاید بچوں کو جان سے نہ مارتے لیکن پولیس کے کہنے پر ان کو مار دو ہم پولیس مقابلہ بنا دیں گے۔ پولیس نے مارنے والوں سے بڑھ کر مجرمانہ کردار ادا کیا اور مزید مارنے کیلئے اکساتے رہے اور چھڑانے والے لوگوں کو آگے آنے سے منع کر دیا۔ پولیس کو عوام تنخواہ دیتے ہیں۔ وردی دیتے ہیں اسلحہ دیتے ہیں کیا یہ عوام کے خلاف ایسا ہی استعمال ہوتا رہے گا۔ مظلوم کی آہ سیدھی عرش پر جاتی ہے چاہے وہ کافر ہو۔ (حدیث پاک)
(سلامت مرزا لاہور)
قومی کھیل ہاکی
مکرمی! جس طرح وطن عزیز کے قومی کھیل ہاکی کو ذاتی مفادات پارٹی جانبداری اور ڈالروں کی لوٹ کھسوٹ کی نذر کر دیا گیا ہے اس پر ہر محب وطن شہری، کھلاڑی اور منتظم خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہاکی سے محبت کرنے والے ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اس قومی کھیل کو بربادی اور تباہی کے اس دہانے پر نہ جانے دیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو سکے۔ سابق عالمی شہرت یافتہ اصلاح الدین، شہناز شیخ، منظور الحسن، شہباز سینئر، طاہر زمان، رشید الحسن اور فلائنگ ہارس سمیع اللہ جیسے سابق کھلاڑی ہاکی کو بچانے کے لئے آگے آئیں۔
راﺅ سلیم ناظم (اولمپیئن)کوہ نور ٹاﺅن فیصل آباد
اے بجلی میں لاﺅں تجھے کہاں سے
مکرمی! بجلی کی کمی اور دستیابی میں ناکامی یہ ہمارے ملک کا اکیسویں صدی کا بہت بڑا مسئلہ ہے حالانکہ بجلی کم نہیں بلکہ اس کو خوامخواہ کا مسئلہ بنایا گیا ہے حالانکہ بجلی کا حصول ممکن بنانا ہمارے حکمران کی ذمہ داری ہے۔ ہمارا ملک بجائے معاشی و معاشرتی ترقی کرنے کے اور پیچھے کی جانب بڑھ رہا ہے اس کا حل یہ ہے کہ زیادہءسے زیادہ ڈیم تعمیر کرکے بجلی کی کمیابی کو زیادہ سے زیادہ دستیابی میں بدلا جائے۔
حرا خضر۔ فیصل آباد
اور اب مریضوں پر ٹیکس
مکرمی! آجکل وفاقی وزیر خزانہ ریفارمڈ جی ایس ٹی کے مسودہ قانون کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس مسودہ قانون میں خدمات پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے جن میں ڈاکٹری خدمت بھی شامل ہے یعنی اب غرب اور بیماری کا شکار کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جائے گا تو پہلے اسے ٹیکس دینا ہو گا اور پھر اس کا علاج ہو گا۔ اگر وہ ٹیکس نہیں دے سکتا تو موت کو آواز دے۔ اگر کوئی شخص زخموں سے تڑپ رہا ہو گا تو پہلے وہ ٹیکس دے پھر اس کا علاج ہو گا۔
چودھری شہداد۔ لاہور
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں