لاتوں کے بھوت اور ناکے
ـ 23 نومبر ، 2009
مکرمی ! موجودہ دہشت گردی کے باعث بڑی شاہراہوں ‘ اہم تنصیبات کے داخلی دروازوں‘ شہر کے اندر سڑکوں پر جا بجا رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس اور دوسرے سیکورٹی اداروں نے عارضی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ بگڑے ہوئے امیر زادے بڑی بڑی مہنگی گاڑیوں میں یا موٹر سائیکلوں پر سوار سیکورٹی اہلکاروں سے الجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان کا لہجہ یا گفتگو کا انداز بھی غیر شائستہ ہوتا ہے سر‘ جناب یا اگر عمر کے اعتبار سے انکل وغیرہ کہنا ان کی تربیت میں نہیں ہے اکثر توں تڑانگ والا لہجہ ہوتا ہے یہ شاید نہیں جانتے کہ یہ اہلکار انہیں کی حفاظت کے لئے یہ سب کارروائی کر رہے ہیں ”میں ابھی اپنے انکل کو فون کرتا ہوں تمہاری وردی اتروا دوں گا‘ ٹرانسفر کروا دوں گا‘ کئی بد تہذیب تو غلیظ گالیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔“ اسی طرح لاہور یا دوسرے شہروں میں ٹریفک پولیس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ میں پولیس و دیگر سیکورٹی اداروں کے سربراہان کو گزارش کروں گا کہ ایسے بدتمیز بگڑے ہوئے لوگوں کے لئے کوئی علیحدہ قانونی پیکج دیا جائے اور سیکورٹی اہلکاروں اور ٹریفک وارڈنز کو یہ اختیار دیا جائے کہ ایسے لوگوں کو بے عزت کیا جائے اور وہ بھی سرعام یعنی فٹ پاتھ پر کان پکڑا دیے جائیں‘ سڑک پر جھاڑو دلوایا جائے پانی چھڑکوایا جائے‘ گاڑی کی ہیڈ لائٹس ہتھوڑی سے توڑنے کا اختیار ہو یعنی توہین آمیز رویہ یا برتا¶ کا اختیار ہو۔ اس طرح شاید یہ نسل سدھر جائے اور مذکورہ بالا اوچھی حرکتوں سے باز آ جائے باپ اور بڑے بھائی کی عمر کے لوگوں سے بولنے کا سلیقہ آ جائے۔ (صوبیدار ریٹائرڈ مختار احمد علوی ۔ کوٹ لکھپت لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں