مکرمی! عراق کے معدنی وسائل سے اپنی تجوریاں بھرنے اور افغانستان کی بیش قیمت قدرتی دولت کو بے دریغ لوٹنے کے بعد امریکہ کی نظریں ایران کے تیل کے کنوﺅں پر جمی ہوئی ہیں جن پر وہ شب خون مارنے کیلئے اس کے پُرامن ایٹمی پروگرام کو اقوام عالم کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل اُمت مسلمہ کو اچک لینے کی گھناﺅنی سازشوں میں جُتے ہوئے ہیں جن میں پاکستان کا جوہری پروگرام بھی ان کی ہٹ لسٹ پر ہے۔ المیہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک صہیونی قوتوں کے مکروہ ارادوں کو جاننے کے باوجود باہم متحد اور شیر و شکر ہیں۔ ہمارے صوبہ بلوچستان میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی اور صوبہ سندھ میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کی کڑیاں بھی انہی قوتوں سے جا ملتی ہیں جو اسلام کے اس قلعہ میں گہرے شگاف ڈال کر اپنے مکروہ ارادوں کی تکمیل چاہتی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہم ان عناصر کا نام لینے میں ہچکچا رہے ہیں یاد رہے صہیونی قوتوں کی نیتوں کے فتور کو ملیا میٹ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام اسلامی ممالک اپنی مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر کسی بھی اسلامی ملک پر پڑنے والی افتاد کی صورت میں اسلام دشمن قوتوں سے اپنے سفارتی، مواصلاتی، تجارتی اور ثقافتی رابطے منقطع کر لینے کا صاف صاف اعلان کر دیں ورنہ اگر اب بھی ہم نے اتحاد یکجہتی کا عملی مظاہرہ نہ کیا تو باطل قوتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔(چوہدری ایم اے شیدا، 648/24 سرفراز رفیقی روڈ، صدر بازار لاہور چھاﺅنی)
پاک افواج وطن عزیز کی ناموس اور دفاع کی ضامن ہے
مکرمی! افواج پاکستان وطن عزیز کی ناموس اور دفاع کی ضامن ہے ہر پاکستانی کے دل میں اپنے ملک عظیم‘ فوج کیلئے بے پناہ عزت‘ محبت ہے۔ خون جما دینے والی سردی میں جب ہم اپنے گھروں میں آرام سے نرم نرم بستروں میں سو رہے ہوتے ہیں تو ہماری افواج چوکنا جاگ رہی ہوتی ہے۔ سیاچین جیسے برف پوش پہاڑ جن کی چوٹیاں برف سے لدی ہوئی آسمان سے باتیں کرتی ہیں ان پہاڑی سلسلوں میں ہمارے بہادر فوجی موسم کی سختی اور زیری برف کے بعد شہید ہوں یا اپنے ہاتھ پا¶ں کھو بیٹھیں زندگی بھر کیلئے معذور ہو جائیں وہاں ایک عام پاکستانی آدمی جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ہمارے شیردل جوان وطن کی خاطر جان جیسی چیز قربان کرتا ہے ایسی بے مثال اور بہترین افواج پر جب کوئی تنقید کرتا ہے تو میرا دل اور خون کھول اٹھتا ہے جو پاک فوج کا دشمن ہے۔ وہ پاک وطن اور ہر محب وطن پاکستانی کا دشمن ہے۔ دشمن نے جب بھی پاک فوج کے خلاف سازش کی اسے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستان دشمن طاقتیں یہ کوشش کرتی ہیں کہ کس طرح پاک فوج کو کمزور کیا جائے مگر ان کو ہر بار ناکامی ہوئی۔ جب ہر طرف سے ملک دشمن کی قوتوں کو ناکامی ہوئی تو انہوں نے ہمارے چند نااہل کرپٹ اور ناکارہ سیاستدانوں کو خرید لیا اور ان بے ضمیروں کو اپنے ہی ملک کے خلاف پاک افواج کے خلاف بیانات دینے کیلئے راضی کیا اور پاکستان کی صحت کاری پر چند دولت کے بھوکے سیاست دان ہر دوسرے دن ہرزہ سرائی کرتے ہیں اپنے ضمیر کو دشمنوں کے ہاتھ بیچنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بنک بیلنس تیزی سے بڑھ رہے ہیں جن کے بیوی بچے بھی اس کاروبار میں مصروف ہیں جن کے چمچے عوام کو لوٹ رہے ہیں جن کا کام صرف اور صرف بیرونی طاقتوں کی تابعداری اور پاکستان کی سلامتی کو دا¶ پر لگانا ہے۔ پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے والے سانپوں کا سر کچلا جانا چاہئے۔ پاکستان کی عوام ان زہریلے سانپوں سے تنگ ہیں۔(حوالدار ریٹائرڈ اقبال حسین شاہ)
وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام
مکرمی ! پھل و سبزی منڈی جو کاہنہ میں شفٹ ہوئی ہے گرین ٹا¶ن اور دوسرے علاقوں کے لوگ پھل و سبزی خریدنے کے لئے ریلوے لائن کے ساتھ والی سڑک سے گزرتے ہیں اس سڑک کا کچھ حصہ بہت خراب ہے اس سڑک پر آمد و رفت بہت زیادہ ہے۔ سڑک کی خرابی کی وجہ سے لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا پڑتا کرتا ہے۔ آپ سے التجا ہے کہ اس سڑک کو ٹھیک کیا جائے تاکہ لوگوں کی مشکلات ختم ہوں۔ (میاں محمد اقبال گرین ٹا¶ن لاہور)
گرلز ہائی سکول کو کالج کا درجہ دیا جائے
مکرمی ! گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گرین ٹا¶ن لاہور کا رقبہ بہت زیادہ ہے۔ عرصہ دراز سے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ اس سکول کو کالج کا درجہ دیا جائے۔ اس سکول میں تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے اور عمارت بن رہی ہے۔ خادم پنجاب سے گزارش ہے کہ اس سکول کو اسی سال کالج بنایا جائے تاکہ گرین ٹا¶ن اور اس کے ارد گرد میں رہنے والی طالبات مہنگائی کی وجہ سے تعلیم نہ چھوڑیں اور اپنی عملی زندگی میں مثبت کردار ادا کریں۔ (اہل علاقہ گرین ٹا¶ن لاہور)
چیف جسٹس سپریم کورٹ اور خادم پنجاب سے نابینا بیوہ کی اپیل
مکرمی! میں 1970ءسے بصارت سے محروم ہوں۔ حقیقی بھائی نے وراثت میں ملنے والی اراضی پر محکمہ مال کے عملہ کی ملی بھگت سے قبضہ کر لیا ہے۔ میری دو بچیاں ہیں میں اپنے علاج معالجہ سے بھی قاصر ہوں۔ قبضہ کے بعد بھائی اراضی کو فروخت کرنا چاہتا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور خادم اعلیٰ سے اپیل ہے کہ میرے حصے کی اراضی کا قبضہ چھڑا کر میرے حوالے کی جائے۔(مختاراں بی بی زوجہ شفیع محمد مرحوم چک 505ای بی تحصیل بوریوالہ ضلع وہاڑی)
اعتزاز احسن کے نام!
مکرمی! بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن بلاشبہ ملک کے ایک نامور قائد ایوان ہیں۔ ملکی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت کے حامل اس قانون دان نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے مقدمہ¿ توہین عدالت میں بطور وکیل وکالت نامہ دے کر اپنا مستقبل دا¶ پر لگا دیا ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب اعتزاز احسن بطور ایک قانون دان پوری پاکستانی قوم کے روبرو اپنی حتمی رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ سوئس حکام کو خط لکھ دینا ضروری ہے۔ تو اب کس قانون کے تحت یہ کہہ رہے ہیں کہ خط لکھنا نہیں بنتا۔ اسلئے خط نہیں لکھا جائے گا۔ چودھری اعتزاز احسن وزیراعظم کا یہ مقدمہ جیتیں یا ہاریں۔ پوری قوم کی طرف سے رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور آئندہ پوری زندگی بطور وکیل اپنے تشخص کو برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ لہٰذا ہمارا ذاتی مشورہ چودھری اعتزاز احسن صاحب (وکیل) کو اپنا وکالت نامہ 13.2.12 سے قبل With Draw (واپس) لیتے ہوئے اپنے مستقبل کو محفوظ کر لیں اور قوم کو سرپرائز دیں۔(میاں خالد اختر کُرڑ چک چٹھہ 0321-6416877)
جناب اسفند ےار صاحب کا لا باغ ڈےم ہم سب کا
مکرمی! پاکستان اس وقت توانائی اور پانی کے شدےد بحران کا شکار ہے۔ کالا باغ ڈےم جےسے پراجےکٹ کی تکمےل بہت ضروری ہے۔کالا باغ ڈےم مےں اتنا پانی سٹور کےا جا سکتا ہے کہ نہ صرف ہمارے ملک کی آبپاشی کی ضرورےات پوری ہو سکتی ہےں بلکہ سستی ترےن بجلی پےدا کی جاسکتی ہے۔جناب اسفند ےار ولی صاحب کالا باغ ڈےم ہم سب کا ہے اس منصوبے کو متنازعہ قرار دے کر ہمےشہ کے لئے دفن کرنے کی باتےں قابل فخر نہےں ضرورت تنازعہ ختم کرنے کی ہے۔ آخر خےبر پختونخواہ کا نام بھی کوئی کم متنازعہ نہ تھا لےکن ےہ بحث و تمحےص اور صحت مند سےاسی رابطوں سے ہی حل ہوا ہے ۔ (رانا زاہد اقبال فےصل آباد موبائل:0323-9668220)
موسم بہار کی آمد
مکرمی! موسم سرما کا اختتام ہوا چاہتا ہے اور موسم بہار کی آمد آمد ہے، یہ بہار ہر طبقے اور عمر کے افراد کیلئے خوشیوں کا پیغام لاتی ہے اور اس کے فیض سے سبھی مستفید ہوتے ہیں جس طرح یہ موسم بہار ہم سب کیلئے خوشیاں لاتا ہے، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ملک میں خوشحالی اور امن کی بہار بھی آ جائے اور یہاں علم و آگہی کی وہ بہار آ جائے جو ہم سب کیلئے یکساں ہو اور یہ بہار صرف حکمران طبقے اور اشرافیہ کیلئے نہ ہو بلکہ اس ملک کی عام عوام کے لیے ہو۔(سید غضنفر علی، آفیسر گریڈ ون سونیری بنک اکبر چوک برانچ لاہور۔ 0333-4862853)
قومی مفاد کو بھی مدنظر رکھیں
مکرمی ! ہمارے ہاں زرداری صاحب کی دوسری حکومت ہے جو اپنے پانچ سال پورے کر رہی ہے اتنے دبا¶ کے بعد بھی حکومت کا اپنا وقت ختم کرنا یقیناً داد کے قابل ہے۔ یہ بات تو ہم سب پر عیاں ہے کہ پاکستان داخلی و خارجی مسائل کا شکار ہے اس لئے میری سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں اس ملک کے مفاد کو شامل کر لیں تاکہ آزادی کے بعد اب ہی اس ملک کا بھلا ہو جائے۔ (سدرہ مشتاق ۔ مغل مجاہد روڈ، نارووال)
خادم اعلیٰ سے اپیل
مکرمی! ملتان روڈ منڈی سٹاپ ہجویری ٹاﺅن سڑک بنانے پر مشکور ہیں لیکن سڑک بننے سے ہجویری ٹاﺅن کے مکینوں کیلئے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ سڑک کراس کرنے کیلئے درمیان میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی گئی جہاں سے روڈ کراس کیا جا سکے۔ سٹاپ پر اتر کر تقریباً تین کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے دوسری طرف جا نا پڑتا ہے درمیان میں کافی چوڑا اور گہرا نالا ہے وہ بھی بہت پریشانی کا باعث ہے۔ سٹاپ کے قریب نہ پل ہے نہ نیچے سے راستہ چھوڑا گیا جس کے باعث خواتین، بچے، بڑے سب کیلئے انتہائی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ درمیان میں راستہ بنایا جائے اور اوورہیڈ برج بھی تعمیر کیا جائے تاکہ یہاں کے مکینوں کو روڈ بننے سے سہولت مل سکے۔(حاجی سرفراز احمد وڑائچ، رانا غلام ربانی اور اہل علاقہ ہجویری ٹاﺅن ملتان روڈ لاہور)
اب بھی وقت ہے
مکرمی؛سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملوں کے نتیجے میں پاک فوج اورحکومت نے عوامی دباو¿ پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے صہیونی لشکر کو نہ صرف ان کی سپلائی لائن بندکردی بلکہ آئندہ اس قسم کے حملوں کی صورت میں ڈرون گرانے تک کے آرڈرز جاری کرنے کی اطلاعات کے بعد عوام کو پہلی بار یہ امید بندھی کہ اب ان کی خودمختاری اور سلامتی کو مدنظررکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی لیکن گزشتہ دنوں سے ڈرون طیاروں نے جس طرح پھرسے حملے شروع کردئیے ہیں اور اطلاعات کے مطابق نیٹوسپلائی بھی پھر سے کھولنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ان خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اندرخانے ''معاملات'' طے ہوچکے ہیں ابھی وقت ہے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور باوقار طریقے سے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے ''شٹ اپ''کال دیں۔(قاسم علی دیپالپور 0333-6923115)
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کسی محمد بن قاسم کی منتظر
مکرمی! امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرتے وقت طالبان کے سربراہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو ملا عمر نے جرا¿ت مندانہ بیان دیا تھا کہ میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میں ایک مسلمان کو کافروں کے حوالے کروں لیکن اس کے برعکس ہمارے سابق بزدل اور اسلام دشمن کمانڈو نے اپنے بدترین دور میں مسلمان پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالہ کیے سابق بزدل جرنیل کے جہاں بڑے بڑے جرم ہیں، ان میں سے ایک بڑا جرم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کرنا ہے۔ امریکی درندوں نے اس عفت ماب بیٹی پر بے پناہ تشدد کیا اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ کیا ہے کوئی محمد بن قاسم اور ملا عمر جیسا غیرت مند حکمران جو امریکہ سے قوم کی مظلوم بیٹی کو واپس لائے۔ (حافظ محسن شریف، مکان نمبر24گلی نمبر1نیا بازار ٹوکریانوالہ عقب غلہ منڈی شیخوپورہ)
غزل (سعداللہ شاہ )
وہی جفائے ستم گر ہمارے کام آئی
وگرنہ ہم کو میسر کہاں تھی تنہائی
یہی وفا کا صلہ ہے یہی وفا کی دلیل
کہ صرف اپنا مقدر بنی ہے رسوائی
وہ اک سراب کی صورت تھا دل کے صحرا میں
ہمارے کام نہ آئی ہماری دانائی
نہیں ہے آئنہ خانہ سے کم یہ دل اپنا
جہاں نما ہے ہمیں اس کی جلوہ آرائی
بہت ہی مہنگا پڑا ہم کو منفرد ہونا
اکیلا کر گئی ہم کو یہ کوہ پیمائی
کسی کی حکمتِ عملی پہ ہم نہ زندہ رہے
کہ ہم شکست سمجھتے تھے اپنی پسپائی
وہی خیالِ پریشاں‘ وہی جمالِ بتاں
کریں تو کیا کریں خلوت نہ جن کو راس آئی
کسی سے شکوہ کناں ہو تو کس لیے ہو میاں
ملی خاک میں آخر گلوں کی زیبائی
اداسیوں میں دلاسے دئیے ہیں دل نے ہمیں
وگرنہ سعد کہاں جاتے ہم سے سودائی