پاکستان کے تعلیمی مسائل اور 70 فیصد آبادی
ـ 11 مارچ ، 2010
مکرمی!پاکستان کی تاریخ میں یہ روایت رہی ہے کہ ہر آنے والی حکومت یہ تو ضرور کہتی ہے کہ ہماری اولین ترجیح تعلیم ہے لیکن یہ بات دعو¶ں تک ہی محدود رہتی ہے حقیقت نہیں بن پاتی کچھ ایسے حقائق سے پردہ پوشی کی جاتی ہے جو جانتا تو ہر کوئی ہے لیکن ان پر غور کرنا قابل غور نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے اور 70 فیصد میں سے تقریباً 80 فیصد ناخواندہ ہے ہر حکمران تعلیم کے حوالے سے بنائی جانے والی پالیسی پر شہروں کے حوالے سے غور کرتا ہے اس طرح 70 فیصد آبادی اس حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ دوسرا سرکاری محکموں کی طرح محکمہ تعلیم میں بھی گدھے اور گھوڑے کی ایک ہی قیمت رکھی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر میں ملازم کی قابلیت کے لحاظ سے اس کی اجرت مقرر کی جاتی ہے۔ پاکستان کی 70 فیصد آبادی تعلیم سے اس لئے محروم رہ جاتی ہے کیوں کہ وہاں پر مقامی استاد میسر نہیں ہوتے۔ نئی بھرتیوں کے وقت چند اساتذہ دور دراز کے سکولوں میں حاضر ہو جاتے ہیں اور تھوڑا وقت گزرنے کے بعد تبادلہ کروا لیتے ہیں اور ایسے دیہات کے معصوم بچے نئے استاد کی تعیناتی کا انتظار کرتے کرتے اپنی تعلیم کے دن گزار لیتے ہیں۔ حکومت سے کچھ زیادہ کا مطالبہ نہیں صرف مستحق اساتذہ کو اعزازیہ ملنے کی گزارش ہے۔ حکومت پنجاب اس وقت اساتذہ کو 450 روپے سفری الا¶نس دے رہی ہے جو ہر استاد کو مل رہا ہے حالانکہ یہ صرف ان اساتذہ کو ملنا چاہئے جو کم از کم پانچ کلو میٹر سے زیادہ سفر کرکے سکول جاتے ہیں۔ لوکل اساتذہ کی مفت موجیں ہیں۔ ایسے ہی ایک سکول کی مثال ہے۔ گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول سہجرہ قصور شہر سے مشرق کی جانب 30 کلو میٹر کے فاصلے پر بارڈر پر واقع ہے یہ سکول 1976ءسے مڈل سکول ہے لیکن بدقسمتی سے اس سکول میں آج تک سٹاف پورا نہیں ہو سکا۔ اس وقت 500 طلبا زیر تعلیم ہیں اور پانچ اساتذہ میسر ہیں وہ بھی دور سے آتے ہیں۔ تعلیمی مسائل پر فوری توجہ دے کر انقلاب لایا جا سکتا ہے اور یہ صرف اسی صورت میں آسکتا ہے جب دور دراز کے دیہات میں اساتذہ کی تعیناتی اور ان کا وہاں لمبے عرصے تک قیام رہے تاکہ ایک یا دو نسلیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں اور وہاں مقامی استاد پیدا ہو سکیں اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ارباب اختیار دور دراز کے سکولوں میں تعینات اساتذہ کیلئے سپیشل پیکج کا اعلان کریں گے تاکہ اس پیکج کے لالچ میں شہروں میں تعینات اساتذہ دیہات کا رخ کریں اور 70 فیصد آبادی جبکہ 100 فیصد پاکستان تعلیم کے ذریعے اندھیروں سے نکل آئے۔
(محبوب عالم قصور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں