مکرمی! پاکستان مےں اس وقت بےشمار نجی ٹےلی وےژن چےنل انٹرٹےنمنٹ کے نام پر انڈےا کے کلچر کو پروموٹ کر رہے ہےں۔ آج ہر گھر سے مندروں کی گھنٹیوں کی آوازےں آتی ہےں۔ پاکستان کا بچہ بچہ ہندوستان کی تقرےباً تمام شادی اور پوچا کی رسموں سے واقف ہے اور اس مےں زےادہ تعداد لڑکےوں اور گھرےلو خواتےن کی ہے جو وقت گزاری کے لےے اِنڈےن ڈرامے دےکھتی ہےں۔ تصوےر کے دوسرے رُخ کی طرف دےکھےں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کارِ خےر مےں صرف انڈےن چےنل ہی نہیں بلکہ پاکستانی چےنل بھی اس مےں برابر کے شرےک ہےں۔ اس وقت ”وقت نیوز“ جیسے چند ایک چینلز کے سوا اکثر چےنل انڈےن پروگرام دکھا رہے ہے۔ پاکستان کے عوام اس وقت بدترےن مسائل سے دوچار ہےں حکومت کے پاس پہلے ہی ان مسائل کے حل کے لےے کوئی پلان موجود نہےں اوپر سے دشمن ملک کے کلچر کا بے درےغ پھےلاﺅ سمجھ سے بالاتر ہے۔ لہٰذا مےری اقتدار مےں بےٹھے ہوئے صاحبان سے گزارش ہے کہ اپنی مصروفےات مےں سے تھوڑا وقت اس طرف بھی دےں تاکہ ہم اپنے آنے والی نسل کو اقبال اور قائد کا پاکستان منتقل کر سکےں نا کہ نہرو اور گاندھی کا۔
(حُسےن جان .... لاہور 0300-4601388)
ایک م¶ثر تنظیم اتحاد اسلامی کے قیام کی ضرورت
مکرمی! آج ایک ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو مسلمان ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا انصاف کے مطابق تصفیہ کرے اور انہیں باہمی تعاون کی شاہراہ پر گامزن ہونے میں مدد دے۔ مختلف عصبیتوں کو ابھار کر مسلم ممالک کو پارہ پارہ کرنے اور مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کروانے کی اغیار کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور متاثرہ ممالک کی ان سازشوں سے نمٹنے میں مدد کرے۔ مسلمانوں کے وسائل کے اغیار کے ہاں منتقل کئے جانے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرے اور ان وسائل کو مسلمانوں کی تعلیمی معاشی اور دفاعی ترقی کے منصوبوں میں لگائے جانے کیلئے رہنمائی اور منصوبہ بندی کرے۔ مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کی واگذاری کیلئے م¶ثر اقدامات کا آغاز کرے۔ کرپشن فحاشی‘ عصمت فروشی‘ جوئے بازی‘ منشیات اور دیگر مفاسد کے خاتمہ کیلئے ضوابط بنانے اور اقدامات کرنے کیلئے مسلم ممالک کی رہنمائی کرے۔
(ڈاکٹر محمد اسلم سیال - مین بازار جھنگ صدر)
سرکاری تعلیمی ادارے زوال پذیر کیوں ہیں؟
مکرمی! جدید دنیا میں جس قوم نے بھی زیادہ ترقی کی ہے وہ عمدہ نظام تعلیم کی مرہون منت ہے۔ ان قوموں نے تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور ترجیحی بنیادوں پر استوار کیا ہے۔ دستور پاکستان کے مطابق تعلیم پر پانچ فیصد بجٹ صرف کیا جانا ہے لیکن پاکستان میں دو اڑھائی فیصد سے زیادہ بجٹ نہیں رکھا جاتا۔ مزید یہ کہ اس پر بھرپور کٹ لگانے کی کامیاب کوشش کی جاتی ہے۔ اسلامی دنیا کی بننے جانے والی سپر پاور ترکی اپنے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور دفاع پانچویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ تعلیم ٹیل (Tail) پر ہے۔ اب تک تعلیمی پالیسیاں بن چکی ہیں لیکن کماحقہ‘ ان پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ درحقیقت ہر حکمت عملی ہی ناقص رہی ہے۔
تعلیمی شعبہ مندرجہ ذیل اقدامات کرنے سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔
(1 حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی بجائے سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف توجہ دے اور مناسب سہولیات مہیا کرے۔
(2 دستور پاکستان کے مطابق بجٹ کا 5 فیصد تعلیم پر خرچ کرے۔
(3 اساتذہ کو جائز مقام دیا جائے اساتذہ کش پالیسی سے گریز کیا جائے تاکہ اساتذہ کو عدالتوں سے رجوع کرنے کی نوبت نہ آئے اور وہ دلجمعی سے کام کر سکیں۔
(4 دستور پاکستان کے مطابق پاکستان کی سرکاری اور دفتری زبان اردو ہے لہٰذا انگلش میڈیم خواہ مخواہ مسلط نہ کیا جائے۔
(5 امتحانات میں سوالات معروضی کم ہوں اور انشائیہ زیادہ ہوں تاکہ طلبہ کے اندر تخلیقی صلاحیتیں معدوم نہ ہوں۔
(بلال عبدالسمیع (سبجیکٹ سپیشلسٹ) ہائر سیکنڈری سکول جوڑا کلاں 0300-6098277)
معاشرے کا ایک گھمبیر مسئلہ .... لمحہ فکریہ!
مکرمی! حضور کے مطابق تلاش رشتہ میں جن امور کو پیش نظر رکھنا چاہیے وہ یہ ہیں -1 حسب نسب درست ہو -2 خوش حالی سے ہم مرتبہ ہو -3 صحت مند/تندرست ہو -4 جنسی اعتبار سے بیمار نہ ہو -5 خوبصورتی دونوں طرف سے قابل قبول ہو -6 دینی رجحان ہو -7 دونوں طرف سے حقوق و فرائض کا لحاظ ہو -8 لالچی نہ ہوں -9 جھٹ منگنی پٹ بیاہ سے احتراز ہو۔ کچھ وقت دونوں دیکھ بھال کرکے فائنل کریں۔ آجکل تلخ ازدواجی زندگی کی عام شکایات ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں 30-35 سال کی عمر میں منتظر ہیں اور چالیس لاکھ بچیاں 25-30 کے عمروں میں بیٹھی ہیں۔ دراصل ایسی صورت حال صرف اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ والدین بروقت کوشش نہیں کرتے۔ اگر کوئی رشتہ آتا ہے تو اس سے بہتر کی تلاش کرتے ہیں۔ حالانکہ رسول اکرم کا ارشاد ہے کہ جب کوئی رشتہ خود بخود آتا ہے تو اسے فوراً کر دینا چاہیے۔ اس وقت بے شمار شادی دفاتر کے علاوہ دینی ادارے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ راقم جذبہ خدمت خلق کے تحت بیس سال سے راہنمائی کر رہا ہے۔ الحمد اللہ! لاتعداد رشتے اللہ پاک نے میرے ذریعے طے کرائے ہیں۔ اس حوالے سے کبھی فیس نہیں لی۔ رشتے کا وظیفہ فون نمبر 0331-4912084 پر رابطہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
(میاں محمد سعید شاد، سابق آفیسر محکمہ تعلیم 403/Aرحمان پورہ کالونی لاہور)
مسئلہ کشمیر: سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ غفلت
مکرمی! پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ کشمیر بجاطور پر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ سب دریا کشمیر سے نکلتے ہیں۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو پامال کرتے ہوئے سندھ، جہلم اور دریائے چناب پر ڈیم تعمیر کر لئے ہیں جن کی تعداد 131 ہے اس طرح 2014ءمیں مکمل ہونے کی صورت میں معاہدے کے مطابق ہمارے حصے آنے والا پانی بند کر دے گا۔ یہ کام جزوی طور پر شروع ہو چکا ہے یہ دنیا میں آبی دہشت گردی کی خوفناک مثال ہوگی۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ہماری تمام سیاسی قیادت اس مسئلے پر خاموش ہے۔ کسی پارٹی کے منشور میں اس کی اولین ترجیح نہیں جو کہ ہونی چاہئے۔ سب اس کو اپنی مصلحت کے تحت نظرانداز کر رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے نزدیک تو اس کا ذکر کرنا گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان نے اگر کبھی کچھ کہا ہے تو صرف اتنا کہ ”ہمیں کشمیر کے مسئلے کا حل آنے الی نسلوں پر چھوڑ دینا چاہئے“۔ اس عقل و دانش پر جتنا رویا جائے حق ادا نہیں ہوگا۔ ہماری کسان انجمنیں کھاد اجناس اور ڈیزل کی قیمتوں کا رونا تو روتی ہیں لیکن کسی نے فصلوں کیلئے پانی کی کمی کی اصل وجہ بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ازلی دشمن نے سرمائے کے زور پر سب کو پیغام دے دیا ہے کہ ”خبردار یہ مسئلہ قومی سطح پر کبھی اجاگر نہ کرنا“ کالا باغ ڈیم نہ بننے دینا اسکی مثال ہے۔ سب سے زیادہ کرب اس بات کا ہے کہ دشمن نے میڈیا کا ایک گروپ خرید لیا ہے۔
(پروفیسر محمد نواز جوندہ دھونکل، 0323-4377171)
ہومیو ڈاکٹر اور حکیم توجہ فرمائیں
مکرمی! اگر کسی ہومیو ڈاکٹر یا حکیم کے پاس ذہنی مرض شیزو فرینیا کا آزمودہ نسخہ اور موثر علاج ہے تو براہ مہربانی علاج کیلئے رابطہ کریں یا نسخہ اخبار میں شائع کرا کر بہت سے مریضوں اور لواحقین کا بھلا کریں۔
(عبدالخالق 0300-4996018)
نوجوان نسل پر میڈیا کے اثرات
مکرمی! میڈیا جوکہ قوم کا نمائندہ اور تہذیب و ثقافت کی ترویج کا ذریعہ ہوتا ہے روز بروز نوجوانوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے۔ میڈیا کو اسلامی حدود اور نظریہ پاکستان کا محافظ بنایا جائے اور موسیقی اور فحاشی کی تشہیر بند کی جائے تاکہ نوجوان افراد کو معاشرے کا مہذب شہری بنایا جا سکے۔
(حفصہ طارق ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور)
مریض کی اپیل!
مکرمی! میں عرصہ دراز سے دل اور پھیپھڑوں کے موذی امراض میں مبتلا ہوں اور مہنگائی کے دور میں علاج کروانا میری حیثیت سے باہر ہے۔ مخیر حضرات میرے ساتھ تعاون کریں۔
(ذوالفقار علی ولد محمد علی چک نمبر 281 گ ب ڈاکخانہ خاص تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد، 0347-7632724)
آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت
مکرمی! پاکستان ازلی دشمن کو پسندیدہ ملک قرار دے رہا ہے اور بھارت کی پاکستان کے خلاف نئی سازش کے تحت اندرون سندھ ہزاروں بھارتی ایجنٹ فعال ہو چکے ہیں۔ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ بھارت نے ایک نئی سازش کا آغاز کیا ہے کہ اندرون سندھ کو ٹارگٹ کیا ہے۔ اس علاقہ پر عرصہ سے بھارت کی نظر ہے۔ ان حالات میں ہمارے اداروں کو آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔
(ادارہ تحفظ پاکستان حاجی میاں جمشید احمد 0333-4055647)
بیوہ کی خادم پنجاب سے فریاد
مکرمی! مورخہ 10 فروری 2010ءکو بوقت 4-30 بجے شام 3 ڈاکو دکان میں داخل ہوئے۔ میری اور میرے بچوں کی روزی روٹی کا تمام اثاثہ لوٹنے کے بعد میرے خاوند کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ میرا بوڑھا سسر ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ میرا دنیا میں کوئی سہارا نہیں۔ ایک بیوہ اور 4 معصوم بچیوں کی فریاد سن کر میرے خاوند کے قاتلوں کو گرفتار کرکے مجھے انصاف دیا جائے اور میرا کھویا ہوا مال وصول کرکے مجھے دلوایا جائے۔
(زہرہ کوثر زوجہ احسن حجاج خالد مرحوم، شیر محمد جیولرز سکنہ E-1/6 ،مست اقبال روڈ بالمقابل جنرل ہسپتال فیروز پور روڈ لاہور ۔فون:0300-4624585)
ویلنٹائن ڈے؟ ذہنی آوارگی کا عالمی دن!
مکرمی! اسی ماہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جسے ویلنٹائن ڈے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اظہار محبت کے طور پر ایک دوسرے کو پھول بھیجے جاتے ہیں۔ محبت بُری چیز نہیں اگر اپنے والدین بہن بھائیوں، اپنے وطن سے کی جائے مگر محبت کا جو انداز اور تصور اس دن سے وابستہ ہے، وہ محبت نہیں سفلی جذبات کا غلبہ ہے۔ غلامانہ ذہنیت کے حامل اور احساس کمتری کے مارے ہم لوگ اغیار کی غلط روش کی پیروی کے بڑے ماہر ہیں۔ یہ ذہنی آوارگی کا عالمی دن ہے۔ اس سوچ کو بدلنے میں ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
(محسن امین تارڑ، ایڈووکیٹ 0331-6442093)
آشیانے کی کنجی شیخ علاﺅالدین
محمد مصدق
جمعہ کے روز آشیانہ کے الاٹیوں کو گھر دینے کی دوسری تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تھے اور ان کے سامنے گھروں کی چابیاں لینے والوں میں واقعی ایے لوگ تھے جن کیلئے اتنے خوبصورت اور تمام سہولتوں سے مزین آشیانے کا حصول ایک خواب کی حیثیت رکھتا تھا، بدقسمتی سے جب شہباز شریف نے غریبوں کے لیے اس پراجیکٹ کو شروع کیا تو پیشہ ور نعرے بازوں نے حوصلہ شکنی کی بہت کوشش کی اور یہ آشیانہ ایک حیرت انگیز پراجیکٹ ہے کہ اس کی حکومت نے مخالف محدب عدسے لیکر خامیاں تلاش کرنے میں مصروف ہیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ اس تقریب میں بھی وزیر اعلیٰ نے ہر خاتون اور مرد امیدوار سے پوچھا کہ کیا کسی نے آپ سے کوئی اضافی پیسہ یا مٹھائی یا کوئی دوسری بات کی تو ہر کسی کا جواب ایک ہی تھا کہ جو لوگ سروے کرنے آئے تھے انہوں نے جب پانی پینے سے بھی انکار کر دیا تو ان کے جانے کے بعد ہمارا خیال تھا کہ ہمیں آشیانہ سکیم میں گھر نہیں ملے گا لیکن چند روز بعد جب مبارکباد کا خط ملا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہم نئے سرے سے دنیا میں آئے ہوں۔ اتنے خوبصورت گھروں کے مالکان میں ایک نابینا استانی بھی تھی جو میوزک سکھاتی ہے اور میوزک سے لگاﺅ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان کیلئے کرائے کا گھر حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اس نابینا استانی نے مائیک پر آ کر کہا کہ اب ”ہمیں کوئی کرایہ دار نہیں کہے گا“ بظاہر چھوٹا سا جملہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرائے دار کا دکھ صرف کرایہ دار ہی جانتا ہے۔
صوبائی اسمبلی کے ممبر اور پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیئر مین شیخ علاﺅالدین نے نوائے وقت کو بتایا آشیانہ سکیم کی ذمہ داری سنبھالنا بہت حساس کام تھا کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی خواہش تھی کہ آشیانہ سکیم پراجیکٹ اپنی مثال آپ ہو اور پورے کا پورا پراجیکٹ اتنا شفاف ہو کہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع بھی نہ ملے۔ چنانچہ مختصر عملے کے ساتھ دن رات کام کیا اور کوالٹی کو مد نظر رکھ کر ریکارڈ ٹائم میں منصوبے کو تکمیل تک پہنچایا۔ اب مختلف شہروں میں آشیانے کی توسیع کی جا رہی ہے خود لاہور میں بھی اس کی توسیع کا کام جاری ہے۔ انشاءاللہ ہر کام میرٹ اور صرف میرٹ پر ہو گا۔