خوف

ـ 10 مارچ ، 2010
مکرمی! ہم ایک خوفزدہ ماحول میں سانس لے رہے ہیں اور ان خوفوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔ ملک عزیز میں سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔ ہم اپنے آس پاس روزانہ کتنے ہی ایسے مظالم ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں جن سے روحیں کانپ اٹھتی ہیں دل کی دھڑکنیں رک جاتی ہیں ہم ان سارے معاملات و حالات کو دیکھتے ہوئے بھی چپ رہتے ہیں بلکہ خاموش تماشائی کا معاملہ اپناتے ہیں یہ خوف .... میں سمجھتا ہوں کہ یہ خوف اللہ کی طرف سے ہم پر ایک عذاب کی طرح نازل ہوا ہے۔ نبی کریم کی ایک حدیث نظر سے گزری آپ نے فرمایا ”جس وقت غنیمت کو ذاتی دولت ٹھہرایا جائے، امانت کو غنیمت سمجھا جائے، زکوٰة کو تاوان سمجھا جائے، آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے، اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو نزدیک اور اپنے باپ کو دور رکھے، فاسق و فاجر شخص اپنے قبیلے کا سردار ہو، قوم کا سربراہ ذلیل اور کمینہ شخص ہو، آدمی کی عزت اس کے شر کے ڈر سے کی جائے، گانے بجانے والیاں اور باجے ظاہر ہوں، شراب پی جائے اور امت کے لوگ اپنے سے پہلے گزر جانے والوں پر لعنت بھیجیں تو پھر انتظار کرو سرخ ہواوں کا، زلزلوں کا، زمین کے دھنس جانے کا، پتھروں کے برسنے کا اور پے درپے نشانیوں کا جیسے موتیوں کی لڑی ٹوٹ جائے اور دانے پہیم گرنے لگیں۔ یقین جانیے یہ حدیث مبارکہ پڑھ کر میرے جسم میں بھی ایک خطرناک خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور میرا جسم کانپ رہا ہے۔ آئیے ہم سب کانپتے جسم کے ساتھ اپنے رب کے حضور معافی طلب کریں اے ہمارے رب! ہم پر رحم فرما ہم کمزور ہیں، ہم گناہ گار ہیں، ہماری خطائیں معاف فرما، اگر تو نے فیصلہ کر لیا کہ ہر خاص و عام پر عذاب مسلط کر دے ایسے میں ہم کہاں جائیں گے، ہم برباد ہو جائیں گے اے میرے رب ہم تیری رحمت کے مقابلے میں تیرے غضب سے پناہ مانگتے ہیں(حافظ زوہیب طیب 0321-5551869)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter