”گورنر ہو تو ایسا ہو“

ـ 10 مارچ ، 2010
مکرمی ! ایک مشہور واقعہ کہ حضرت عمرؓ نے جب حضرت حذےفہؓ کو مدائن کا گورنر مقرر کےا اس وقت مدائن مےں مسلمان‘ ےہودی اور نصرانی بھی آباد تھے۔ سب کو اطلاع مل گئی کہ مدائن کے نئے گورنر تشرےف لا رہے ہےں۔ اہل شہر نئے گورنر کو خوش آمدےد کہنے کےلئے سڑک کے دونوں طرف صف باندھے منتظر کھڑے تھے۔ شاندار استقبال کےلئے بےتاب تھے۔ اِسی اثناءمےں اےک شخص موٹا جھوٹا لباس پہنے گدھے کی ننگی پےٹھ پر سوار ہاتھ مےں سوٹا پکڑے ان کے درمےان سے گزر گےا اور انہےں خبر تک نہ ہوئی کہ والی مدائن شہر مےں پہنچ چکے ہےں۔ آخر جب لوگ انتظار کرتے کرتے تھک گئے تو اُنہوں نے مسلمانوں سے پوچھا کہ نئے گورنر آنے والے تھے، ابھی تک کےوں نہےں پہنچے؟ مسلمانوں نے بتاےا کہ وہ تو ابھی ابھی تمہارے سامنے سے گزر کر شہر مےں پہنچ چکے ہےں۔ وہ وہی تو تھے جو گدھے پر سوار تھے۔ ےہ سن کر تمام شہر والے حےران رہ گئے۔ بعدازاں نئے گورنر نے خلےفہ کا فرمان پڑھ کا سناےا۔ پھر لوگوں نے آپ کو مجبور کےا کہ آپ اپنی ضرورےات بتائےں۔ اِس پر آپ نے فرماےا مجھے صرف اپنے پےٹ کےلئے خشک روٹی اور گدھے کےلئے خشک گھاس کی ضرورت ہے، جب تک ےہاں رہوں گا، اس سے زےادہ تم سے کچھ نہ مانگو گا۔ آپ جب تک مدائن مےں گورنر رہے، امےری مےں فقےری کی۔ اپنی ساری تنخواہ غرےبوں، مسکےنوں اور حاجت مندوں مےں بانٹ دےا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عمرؓ نے محاسبہ کی خاطر آپ کو بلوا بھےجا کہ دےکھئے اب آپ کس شان و شوکت سے آتے ہےں اور خود حضرت عمرؓ اےک باغ مےں چھپ کر انتظار مےں بےٹھ گئے۔ آپؓ نے جب دور سے دےکھا کہ حضرت حذےفہؓ اسی گدھے پر بےٹھے لاٹھی سے گدھے کو ہانکتے پہلی سی ہی حالت مےں آرہے ہےں تو حضرت عمرؓ باغ سے باہر نکلے اور فرطِ محبت سے سڑک پر ان سے لپٹ گئے اور فرمانے لگے: ”اب مجھے کوئی فکر نہےں جب اےسے ساتھی مل گئے ہوں“ لہٰذا حکمران سادگی اپنائےں۔ اِس واقعہ سے سبق سےکھ کر راہِ راست پر آ جائےں تو پاکستان کو چار چاند لگ جائےں۔ ےہ پاک ہستےاں اِس مصرعہ کے مصداق ہےں....سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ
(محمد فیاض انصاری۔ 29۔ اے رحمان پورہ، لاہور۔ فون: 0321-4220900)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter