واپڈا کلرکوں کا وائٹ کالر الاﺅنس
ـ 10 فروری ، 2012
مکرمی!محکمہ واپڈا کی 8 کمپنیوں میں لائن سٹاف کے ساتھ کلریکل سٹاف محکمہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر محکمہ میں کلریکل سٹاف کو افسران کے دست وبازو قرار دیا جاتا ہے اور محکمہ واپڈا اور اس کی کمپنی میں پرانی یارڈ سٹیک کے تحت دفتری کام زیادہ لیکن کلریکل سٹاف صرف ایک آدھ سے برسوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ محکمہ میں لائن سٹاف کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ان کے ساتھ کلریکل سٹاف کی اہمیت کسی طرح لائن سٹاف سے کم نہیں۔ لیکن سی بی اے واپڈا یونین کی مرکزی قیادت لائن سٹاف کے مسائل حل کرانے کیلئے زیادہ متحرک نظر آتی ہے اور اپنے ساتھ شامل حال کلریکل سٹاف کے مسائل اور جائز مراعات دلوانے میں کمزور کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ یونین کو لائن مینوں کے ساتھ کلرکوں کیلئے وائٹ کالر کے نام پر زیر غور الاﺅنس کی منظوری کیلئے واپڈا اتھارٹی سے باعمل مذاکرات کرنا ہوں گے تاکہ واپڈا میں دن رات دفتری نظام کو چلانے والے اہمیت کے حامل کلریکل سٹاف میں پائی جانے والی جائز بے چینی اور اضطراب ختم ہو سکے۔محمد یوسف خان چغتائی (ایم اے تاریخ)A/46 محلہ میانہ میانوالی شہر 0333-6839076
حلقہ بندیاں
مکرمی! ایم این اےز اور ایم پی ایز اپنے من پسند حلقہ بندیوں کے چکر میں ایک یونین کونسل کو صرف الیکشن جیتنے کیلئے کئی حصوں میں تقسیم کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تاکہ یہ برائے نام بنیادی یونٹس غیر موثر ہو جائیں۔ ایسے حالات میں UC کے جس حصہ سے جیتنے والا امیدوار حکومت میں ہو اس حصہ پر خصوصی توجہ اور باقی کو علاقہ غیر سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال میری رہائشی یونین کونسل نمبر 112 دھریمہ جس کی حد سرگودھا سٹی سے براستہ سڑک تقریباً 9کلومیٹر کی دوری پر شروع ہوتی ہے۔ اس UC کو بھی PP-29 اور PP-35 میں تقسیم کر کے NA66 میں رکھا گیا ہے۔ NA66 سٹی سرگودھا کا حلقہ PP33، PP34 اور کچھ حصہ PP29، PP35 کا بھی ہے۔ PP29 کی حد نصف یوسی دھریمہ سے شروع ہو کر تحصیل بھلوال سے ہوتی موٹروے تک چلی جاتی ہے اسی طرح PP35 دھریمہ کو تقسیم کرتی تحصیل ساہیوال سرگودھا کے جنوب تک جاتی ہے۔ UC دھریمہ کو تقسیم کر کے پتہ نہیں کس قصور کی سزا دی جا رہی ہے۔نیز یونین کونسل نمبر 112 دھریمہ تحصیل و ضلع سرگودھا پنجاب کی طرح دیگر یونین کونسلز کی بندر بانٹ کو ختم کیا جائے اور پوری یونین کونسل کو ایک ہی حلقہ میں رکھا جائے تاکہ بنیادی سیاسی یونٹس (یونین کونسل) کی حیثیت و اہمیت برقرار رہ سکے۔(ملک محمد اکبر جوئیہ، چک نمبر 2 رکھ دھریمہ، یوسی 112، تحصیل و ضلع سرگودھا، فون نمبر: 0300-600-8859)
ہر آنکھ اشکبار ہے مگر آنسو نہیں
مکرمی! امت مسلمہ پر ڈھائے جانے والے مظالم دیکھ کر ہر فرد خون کے آنسو روتا ہے فرانس ڈنمارک جیسے ملعونوں کے بعد ہالینڈ نے بھی حجاب پر پابندی عائد کر کے اسلام کے ساتھ دشمنی اور تنگ نظری کا ثبوت دے دیا ہے۔ اسی لئے اسلام کے خلاف مغربی تعصب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے دین میں من مانی کی جا رہی ہے‘ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ مغرب ہماری اسلامی ریاستوں پر حملہ آور ہی نہیں اس کی یلغار کثیر یکجہتی ہے جو پوری منصوبہ بندی کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ پوری اسلامی برادری احتجاج کرتی ہے کہ انہیں مذہبی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ حکمرانوں اور اپنی بے بسی دیکھ کر یہ کہنا غلط ہو گا کہ ہر آنکھ اشکبار ہے لیکن آنسو نہیں۔رانا ذوالفقار علی 0315-4030187946 بی ون چائنہ سکیم گوجر پورہ لاہور
پھر موقع کب ملے گا؟
مکرمی! آصف زرداری صاحب نے فرمایا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو ملک کی تقدیر بدل دیں گے جناب صدر صاحب آپ تو چار سال سے کرسی صدارت کے عہدہ پر فائز ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ابھی آپ کو موقع ہی نہیں ملا، اگر اب بھی آپ دوبارہ صدر بننے کے خواہش مند ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی آپ کا پیٹ نہیں بھرا۔(فضل کریم، فیصل آباد)
خادم پنجاب کے نام ایک بیوہ ماں کی اپیل
مکرمی! میں ایک ریٹائرڈ فوجی عبدالعزیز کی بیوہ ہوں‘ میرا بیٹا عبدالغفور MSC (تجربہ دس سال) عرصہ 3 سال سے بے روزگار ہے‘ بیوی 2 بچوں کے علاوہ ایک بیوہ ماں اور معذور بہن کا ساتھ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے بچے کیلئے ملازمت کی درخواست ہے۔ شکیلہ عزیز 834-E جوہر ٹاﺅن لاہور 0333-4254834
دیر پا حل !
مکرمی! آج مہذب دنیا کا لیبر کے بارے میں نظریہ بدل چکا ہے، ان ممالک کا خیال ہے کہ صحتمند اور خوشحال ورکر ہی پوری تندہی اور دلجمعی کے ساتھ ملکی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے- ان کے ہاںفی کس ماہانہ آمدنی اتنی ضرور ہے کہ جس میںورکر کلاس زندگی کی آسائشات سے ایک حد تک لطف اندوز ہوسکتی ہے- جو لوگ جہاں وطن عزیز میں فقط دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کر پاتے تھے دیار غیر جا کر ان کے حالات تیزی سے بدل گئے، اپنوں سے دوری کا دکھ اپنی جگہ لیکن وہ اپنے رہن سہن سے ضرور مطمئن ہیں-حکومت وقت کو بھی اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ لوگ اس ملک سے فرار کو ہی راہ نجات سمجھنے لگیں، کم از کم اجرت اتنی مقرر کی جائے کہ جس میں فقط روٹی پوری کرنے کے علاوہ بھی زندگی کی کسی نعمت کے بارے میں سوچا جا سکے- فیکٹری ایریاز کا ماہانہ جائزہ لے کر وہاں کے ماحول کو صحت کے اصولوں کے مطابق بنانے پر مجبو رکیا جائے تاکہ یہ جہنم خانے پر سکون اور آرام دہ ورکنگ پلیسز ثابت ہوں۔ (محمد رضوان خان، ملتان)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں