سازش !

ـ 9 فروری ، 2012
مکرمی! تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ایفروز کمپنی کی دوا آئسوٹیب 20۔ دل کے مریضوں کی ہلاکت کا سبب بنی ہے ممکن ہے ایسا ہوا ہو لیکن عقل نہیں مانتی، میں ایک کیمسٹ ہوں۔ میں ادویات کی تیاری اور ان کی بزنس کے طریقہ کار سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ ادویات بنانے اور ان کا معیار برقرار رکھنے کی ذمہ داری مالک کے ساتھ ساتھ کمپنی کے فارماسسٹ کی بھی ہوتی ہے۔ ایفروز ایک قابل بھروسہ کمپنی ہے۔ ایسی کمپنی جعلی یا مضر صحت دوا بنا کر اپنا بزنس خراب نہیں کر سکتی، جعلی یا غیر معیاری ادویات جعلی کمپنیاں بناتی ہیں۔ اس بات کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ نقصان دہ دوا کتنی تعداد میں تیار کی گئی ہے اور وہ لاہور کے دل کے ہسپتال کے علاوہ کہاں کہاں بیچی گئی ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں کے میڈیکل سٹورز سے اس دوا کے سیمپل لیکر ان کا تجزیہ کروانے کی ضرورت ہے۔ دیگر صوبوں سے بھی سیمپلز اکٹھے کیے جائیں۔ کمپنی کے گودام سے بھی سیمپلز لیے جائیں۔ ساری ادویات ایک بار ہی نہیں بنائی جاتیں، تھوڑی تھوڑی مقدار میں بنائی جاتی ہیں۔ ہر بار بنی ہوئی دوا کا بیچ نمبر مختلف ہوتا ہے۔ مختلف بیچ نمبرز کے سیمپلز ٹیسٹ کروائے جائیں۔ پھر پتہ چلایا جا سکے گا کہ ساری دوا میں نقص ہے یا کسی خاص بیچ نمبر کی دوا میں، یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ صرف لاہور کے ہسپتال کو مہیا کی جانے والی دوا زہریلی ہے یا ملک بھر میں تقسیم کی گئی دوا ناقص ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ صرف لاہور کے ہسپتال کو ناقص دوا مہیا کی گئی ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ شاید یہ کوئی سازش ہے اور اس میں کمپنی کے مالک کے علاوہ کوئی اور بھی قصور والا ہے۔(اعجاز احمد، ڈنگہ۔گجرات)
قصہ بلوچستان کااور مظلوم پنجابی
مکرمی! راقم افغانی پشتون ہے اور پنجاب میں پیدا ہوا، مجھے سخت دکھ ہوتا ہے جب کوئی بلوچ لیڈر پنجاب اور پنجابی کو گالی دیتا ہے اور بیجا تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور اس کے مقابلے میں پنجاب کا کوئی لیڈر بدلے میں بلوچوں سے گلہ نہیں کرتا۔ پچھلے دنوں مینگل صاحب نے جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں شامل تھے اور بلوچستان میں کبھی گورنر اور کبھی وزیر اعلیٰ رہے ہیں ان سے سوال کرتا ہوں کہ انہوں نے کس حیثیت میں پنجابیوں پر تنقید کی اور افواج پاکستان کو بُرا بھلا کہا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یحییٰ خان، جنرل موسیٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، غلام اسحاق خان، جنرل ٹکا خان، جنرل پرویز مشرف، بے نظیر کیا یہ سب پنجابی تھے؟(ملک ریاض احمد)
فیصل آباد میں تعلیمی شعبہ میں تجربات
مکرمی! DCO اور EDO ایجوکیشن فیصل آباد نے حکومت پنجاب کے رائج شدہ تعلیمی ڈھانچے کے بالکل الٹ اپنا ایک ذاتی وضع کردہ ا نتظامی ڈھانچہ متعارف کروایا ہے جس سے الٹا فائدے کی بجائے ضلع بھر کے ہائی سکولوں کا چیک اینڈ بیلنس ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ DCO اور EDO ایجوکیشن فیصل آباد نے ضلع فیصل آباد کے تمام زنانہ مردانہ ہائی سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کو بطور فوکل پرسن ایڈیشنل DEO'S کے اختیارات دے کر پرائمری اور مڈل سکولوں میں دھکیل دیا ہے جس سے سرکاری ہائی سکولوں کا نظام اور معیار تعلیم متاثر ہو رہا ہے۔(حافظ محمد افضال، گلی نمبر1محلہ پرتاب نگر جھنگ روڈ فیصل آباد )
جزاک اللہ خیر
مکرمی! یہ یقین باطل ثابت نہیں ہوا الحمد اللہ پاکستان میں درد دل رکھنے والے موجود ہیں اس نفسا نفسی کے دور میں بھی لوگوں کے دکھ درد بانٹنے کا جذبہ ناپید نہیں ہے۔ 4فروری کی اشاعت میں اہل دل کی توجہ مبذول کرائی ”ایک معصوم چراغ گل ہونے سے بچایا جائے“۔ محمد سعید نامی یہ معصوم چراغ جسے زندگی کی روشنی نصیب ہوئے صرف ڈھائی برس ہوئے ہیں۔ دل کے دو وال بند ہونے کے باعث ٹمٹما رہا ہے جسے برقرار رہنے کیلئے ”آپریشن“ کا ”روغن“ درکار ہے اور اس کے لیے راولپنڈی کے ہسپتال AFIC نے ڈھائی لاکھ روپے کا تقاضا کیا ہے۔ محمد سعید کا غریب باپ گل محمد جو سوات کے نواح میں محنت مزدودری کرتا ہے اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ روز ایک بزرگ دفتر نوائے وقت تشریف لائے جن کی ظاہری حالت ان کی کمزور مالی حالت کی چغلی کھا رہی تھی مگر ان کا دل غنی ہے وہ محمد سعید کے آپریشن کیلئے تین ہزار روپے کا عطیہ دے گئے۔ اصرار کے باو جود اپنا نام اور شناخت ظاہر نہیںکی۔ ایسے لوگ صرف اللہ سے اجر کے طلبگار اور یقیناً مستحق بھی ہیں۔ اہل دل و خیر سے گزارش ہے کہ وہ اس ناچیز کی بجائے AFIC ہسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹر لیفٹیننٹ کرنل انعام اللہ کارڈیک سرجن کو مطلوبہ رقم یا اس کا حسب توفیق حصہ ارسال فرمائیں یا محمد سعید کے والد گل محمد سے اس کے فون نمبر 0307-7495949 پر رابطہ فرمائیں، نامعلوم بزرگ جو تین ہزار روپے دے گئے ہیں وہ جلد ہسپتال کی انتظامیہ یا گل محمد کو اس کے پتے پر گاﺅں کاربن گجر ڈاکخانہ گیدال کالام ضلع و تحصیل و سوات بھیج دیئے جائیں گے۔ جزاک اللہ خیر۔(اسرار بخاری۔ براہ راست)
خادم اعلیٰ! اپنی اعلیٰ روایت بچائیے!
مکرمی! میاں نواز شریف صاحب نے اپنے دور حکومت میں پہلی دفعہ بوڑھوں کو خاصی مراعات دیں یہ ستم ظریفی نہیں کہ انہیں کے چھوٹے بھائی کی حکومت میں صوبہ پنجاب میں ریٹائرڈ ملازمین باقی تینوں صوبوں اور وفاقی حکومت کے 2001ءتک ریٹائر ہونے والوں نے سات فیصد الاﺅنس سے استفادہ نہیں کر پا رہے حالانکہ 2-12-2010 کو سپریم کورٹ نے سول پٹیشن نمبر173/2011میں مورخہ 1-4-2011کے آرڈرز میں کوسٹ آف لونگ الاﺅنس کو بحال رکھا ہے، جس کے مطابق تمام ملا زمین BPS 1-22 اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت یہ الاﺅنس لے رہے تھے اور ترمیم شدہ BPS 2001 سے استفادہ نہیں کیا، وہ بنیادی تنخواہ کا سات فیصد پنشن میں شامل ہونے کے مستحق ہیں، اس کی چٹھی تمام صوبوں کو بھیجی جا چکی ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ماسوائے صوبہ پنجاب کے ہو چکا ہے۔ میرا حسن ظن ہے کہ شہباز شریف جیسا درد دل رکھنے والے ہمدرد انسان کے نوٹس میں جونہی معاملہ آئے گا وہ خود ہی عمل درآمد کرواکے نہ صرف بوڑھوں کی دعائیں لیں گے بلکہ بزرگوں کی خدمت کی خاندانی روایت شکنی نہیں ہونے دیں گے۔(ناصر آغا،0332-7927039)
بھوک، بدحالی
مکرمی! چار سال سے موجودہ حکومت کے کرتا دھرتاﺅں نے قوم کے ساتھ وعدہ خلافی کا کھیل کھیلا ہے، عوام مہنگائی، بھوک اور غربت سے مر رہے ہیں، وی آئی پی فیڈرز 24گھنٹے چل رہے ہیں، اور عوام کو صنعتی سیکٹر کیلئے بھی بجلی میسر نہیں ہے۔ بالا دست طبقوں نے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے، غریب کو نہ روٹی ملتی ہے، نہ کاروبار، سب کچھ پانچ فیصد وی آئی پی طبقہ کھا رہا ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو بروز قیامت اللہ کے روبرو حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔(شہباز احمد روشن بھیلہ، قصور۔ 0307-4478076)
غدار کی سزا!
مکرمی! شکیل آفریدی نے وطن سے غداری کا مرتکب ہو کر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو اغیار کے ہاتھوں مروایا ملکی سلامتی کو داﺅ پر لگوایا، جعلی ویکسی نیشن مہم چلائی اور امریکہ کو آگاہ کیا، اگر ڈاکٹر شکیل کو کسی بھی سطح پر معلوم تھا تو وہ محب وطن شخص کی طرح ملکی اداروں کو آگاہ کرتا اس نے دشمن کا ایجنٹ بن کر ملک و قوم سے غداری کی ہے، اس لیے حکومت اس کو کسی بھی وجہ سے کسی بھی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسے ملکی مروجہ قوانین کے مطابق سزا دے۔(ملک محمد یونس، جڑانوالہ)
جان لبوں پہ
مکرمی! موجودہ حکمرانوں کے طرز عمل سے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جو سماں نظر آ رہا ہے شاید ہی دنیا کے کسی دیگر ملک کی مثال ملتی ہو، ظاہر ہے کہ جس ملک کے حکمران آئین و قانون کی بالا دستی کو قبول کرنے سے انکار خاص کر دیں وہاں اندھیر نگری چوپٹ راج والے معاملات نہیں ہوں گے تو اور کیا ہو گا؟ آئے دن حکمرانوں کا نیا سے نیا سکینڈل قوم کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، 100فیصد صداقت سے لبریز یہ سکینڈل نجانے کس اندھے کھو میں گرا دیئے جاتے ہیں۔ مادر وطن کی 18 کروڑ غربت و افلاس میں پسی قوم چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سے سوال کرتی ہے کہ آخر ان بے رحم حکمرانوں کی خون آلودہ چھریوں سے ہماری ناتواں گردنوں کو کب چھڑواﺅ گے؟ اب جبکہ ہماری جانیں لبوں پہ سسک رہی ہیں۔(میاں خالد اختر کرڑ، چک چٹھہ۔ 0321-6416877)
کرایہ کا تعین! کس کی ذمہ داری ہے؟
مکرمی! مینار پاکستان سے براستہ بھاٹی دروازہ میوہسپتال تک جو رکشے آتے ہیں ان کے ڈرائیور سواریوں سے اکثر جھگڑتے رہتے ہیں میوہسپتال میں مریضوں کے لواحقین ہی زیادہ تر دیہات سے آتے ہیں، مینار پاکستان سے رکشے پر سوار ہوتے وقت نہ ڈرائیور انہیں بتاتے ہیں کہ میوہسپتال کا کرایہ اتنا ہو گا اور نہ ہی جلدی میں سوار ہونے والے کرایہ کا پوچھتے ہیں، چوک میوہسپتال میں جب سوار رکشا سے اترتا ہے تو کرایہ پر جھگڑا ہو جاتا ہے، بعض اوقات معاملہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ نوبت دست و گریبان اور گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہے اس صورت حال سے بچنے کیلئے مینار پاکستان سے میوہسپتال تک کرایہ مقرر کیا جائے۔(محمد یعقوب صابر، پیرس ہوٹل7۔ریلوے روڈ لاہور)
خادم اعلیٰ میری بھی سنو!
مکرمی! ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور میں حکیم کی ایک آسامی خالی ہے اس کیلئے ہر سال اشتہار تو دے دیا جاتا ہے مگر بھرتی ابھی تک نہ ہو سکی ہے 16دسمبر2011ءکو بھی محکمہ صحت قصور کی بھرتی کا اشتہار دے دیا گیا جس میں ہومیو ڈاکٹر، حکیم اور کمپیوٹر آپریٹر سمیت مختلف آسامیاں ہیں 5جنوری2012ءکو انٹرویو تھا جب انٹرویو کیلئے پہنچے تو پتہ چلا کہ وزیر اعلیٰ صاحب کی جانب سے بین لگا دیا گیا ہے، آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ مہربانی کرکے محکمہ صحت قصور میں بھرتی کا آرڈر دیا جائے تاکہ مجھ سمیت بہت سے دیگر افراد کا بھی بھلا ہو جائے۔(راﺅ محمد ادریس خاں لاڈی، الٰہ آباد)
پنجابی کی ترویج کی ضرورت
مکرمی! مادری زبان کو درس و تدریس میں ہمیشہ فوقیت رہی ہے اور یہ فطری تقاضا ہے کہ اللہ رب العزت نے درس و تدریس کیلئے جو کلام حق نازل فرمایا، وہ تمام انبیاءکی ان کی مادری زبان میں اتارا گیا، اس لیے بہتر تعلیم و تدریس کیلئے مادری زبان ہی بہترین زبان ہے اور یہی فطری عمل بھی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ انگریزی زبان کی ترویج کی بجائے ہماری پنجابی جو کہ مادری زبان ہے اس میں درس و تدریس کا عمل شروع کیا جائے۔ پنجابی زبان اپنے اندر اتنی وسیع و عریض ہے کہ انگریزی زبان اس کے سامنے بالکل ہیچ نظر آتی ہے۔ پنجابی زبان کو فروغ دینے کیلئے پہلی جماعت سے رائج کیا جائے تاکہ یہ انگریزی اردو اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں ترویج پا سکے۔(ملک شوکت علی نوشاہی، صدر مجلس شاہ عباس پتوکی)
تعلیمی ا داروں میں موسیقی
مکرمی! اس پر ماتم نہ کریں تو کیا کریں کہ پنجاب اسمبلی کے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں محفل موسیقی میں سرگرمی پر مکمل آزادی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے نیز گزشتہ دنوں پہلے پنجاب اسمبلی میں تعلیمی اداروں میں موسیقی کے پروگراموں پر بندش کا بل پیش ہوا مگر چند میڈیا گروپس نے اس نیک شگون والی بندش کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم لیگ (ن) کی جماعت اس بل کی حمایت سے دستبردار ہو گئی۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق اس خطہ کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا تھا مگر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیاست دان اس کو اسلام کی تجربہ گاہ نہیں بلکہ بھانڈ، مراثیوں کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ پڑھی لکھی اسمبلیوں کا نعرہ لگا کر اگر جعلی ڈگری والے اس ایوان پر قابض ہوں گے تو پھر تعلیم کا یہی حال ہو گا پھر تعلیمی اداروں میں نصاب کی پڑھائی کی نسبت محفل موسیقی کو ہی اوّلیت دی جائے گی۔(نیر صدف، دھرم پورہ لاہور)
شیخ چلی کی زندہ کہانی
مکرمی! بچوں کی کہانیوں کا ایک بیوقوف سا کردار شیخ چلی ہے، اس شاخ کو ہی کاٹ رہا ہوتا ہے جس پر بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ دھڑام سے نیچے گر کر شدید زخمی ہونے اور نقصان کے احساس سے عاری ہوتا ہے اس کی کہانی پڑھ کر تو کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سبھی اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ شیخ چلی ہی ہیں جس درخت کی چھاﺅں تلے بیٹھے آرام سے اس کے رس بھرے پھل سے مستفید ہو رہے ہیں جانے انجانے میں اس کی جڑوں کو ہی کاٹ رہے ہیں۔ ہم میں سے ہی کچھ بدبخت یہ کام بڑی تیزی اور دیدہ دلیری سے کر رہے ہیں۔ باقی کی خاموشی سے اس عمل کو ہوتے دیکھ کر ایک طرح سے ان کے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ سود و زیاں کے احساس سے عاری ہیں تبھی مزاحمت کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے۔ (محسن امین تارڑ، ایڈووکیٹ۔ 0331-6442093)
پسرور شہر میں ٹریفک کے مسائل!
مکرمی! پسرور ضلع سیالکوٹ کی ایک تحصیل ہے یہاں دیگر مسائل کے علاوہ ٹریفک کا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ لاقانونیت کی انتہا ہے ویگن ڈرائیور آگے دو والی سیٹ پر تین سواریاں بٹھاتے ہیں۔ اوور لوڈنگ تو روزہ مرہ کا معمول ہے۔ سواریوں سے بدتمیزی اور زیادہ کرایہ وصول کرنا تو ان کی عادت ہے۔ اکثر ڈرائیور حضرات بغیر لائسنس کے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے ڈرائیوری کرتے ہیں۔ ٹریفک پولیس خاموش تماشائی بن کر بس ان سے صرف منتھلی وصول کرنے میں مصروف ہوتی ہے۔ حکام بالا نوٹس لیں اور عوام کو سفری سہولتیں مہیا کرنے میں کردار ادا کریں۔(سید عامر جیلانی، پسرور شہر ضلع سیالکوٹ)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں