تازہ ترین:

”بنےاد پرستی“....

ـ 9 فروری ، 2010
مکرمی! بنےاد پرست اےک ایسے شخص کو کہتے ہےں جو اپنے عقےدے ےا نظرئےے کی مبادےات‘ ےعنی بنےادی باتوں سے پوری طرح وابستہ اور ان پر کاربند ہو۔ اگر اےک شخص اےک اچھا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو اسے طب کی مبادےات کا علم ہونا اور ان پر ا س کا عمل کرنا ضروری ہے۔ اےک اچھے رےاضی دان کےلئے ےہ ضروری ہے کہ وہ رےاضی کی مبادےات سے آگاہ ہو گوےا اےک ڈاکٹر کو طب مےں اور اےک رےاضی دان کو رےاضی کے شعبے مےں فنڈا مےنٹلسٹ ےا بنےاد پرست ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اےک سائنس دان کوسائنس کے بارے مےں مکمل معلومات ہونی چاہئےں دوسرے الفاظ مےں اسے سائنس کے مےدان مےں بنےاد پرست ہونا چاہےے اسی طرح دےن کے معاملے مےں بھی اےک شخص کا بنےاد پرست ہونا ضروری ہے۔ دراصل بنےاد پرستی اےک تحرےک تھی جو بےسےوےں صدی کے شروع مےں امرےکہ مےں پروٹیسٹنس protestants کے اندر اٹھی۔ ےہ تحرےک جدےدےت کے خلاف اےک ردعمل کے طور پر ابھری۔ اس تحرےک کے ماننے والوں کا ےہ کہنا تھا کہ بائبل کا متن ہو بہو خدا کے الفاظ ہےں۔ اس کے ساتھ ساتھ ےہ لوگ صرف عقائد اور اخلاق ہی نہےں بلکہ تارےخی رےکارڈ کے حوالے سے بھی بائبل کو غلطےوں سے پاک دےکھنا چاہتے تھے اس طرح بنےاد پرستی ایک اےسی اصطلاح ہے جو سب سے پہلے عےسائےوں کے اےک گروہ کے لئے استعمال کی گئی جو ےہ ےقےن رکھتے ہےں کہ بائبل لفظ بہ لفظ خدا کا کلام ہے اور اس مےں کوئی غلطی ےا تحرےف کی گنجائش موجود نہےں۔ لےکن جدےد تناظر مےں مغربی مےڈےا اور دانشوروں نے بنےاد پرستی کی اصطلاح کو عےسائےت سے الگ کرکے مسلمانوں اور اسلام سے وابستہ کردےا اور اب بنےاد پرستی کی تعرےف ےوں سمجھ مےں آئی ہے کہ اسلام کے قدےم ےا بنےادی نظرےات پر سختی سے کاربند ہوتا۔ آج پوری دنےا مےں جب کوئی بنےاد پرستی کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو فوراً اس کے ذہن مےں اےک مسلمان کا تصور ابھرتا ہے جو اس کے خےال مےں دہشت گرد ہے راسخ العقےدہ اور بنےاد پرست مسلمانوں کا ذکر تمام ذرائع ابلاغ مےں کےا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق افزا پردازی کی انتہا کردی جاتی ہے دراصل ےہ بے بنےاد پروپےگنڈہ مسلمانوں کے خلاف امتےاز اور تشدد کا باعث بن رہا ہے۔لفظ اسلام ”سلام سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے سلامتی ےہ امن کا مذہب ہے دہشت گردی کے موجود تناظر مےں ےہ ضروری ہے کہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے صورتحال کا اچھی طرح تجزےہ کےا جائے۔ متعلقہ گروہ کی دلےل اور مقاصد کو پےش نظر رکھ کر اس کے مطابق کوئی رائے قائم کی جائے صرف سماج دشمن عناصر کو ہی دہشت گرد سمجھنا چاہےے نہ کہ ساری مسلمہ امہ کو....!محمد رمضان شیخ ایڈووکیٹ )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں