مسلمان بھی انصاف مانگیں

ـ 9 فروری ، 2010
مکرمی۔ عافیہ صدیقی کے حوالے سے مجھے بیس سال پہلے کا ایک کیس یاد آیا۔ میرا ایک سول انجینئر دوست کئی سال واپڈا، ایران اور سعودی عرب ملازمت کے بعد واپس پاکستان آ کر ٹھیکیداری کرنے لگا۔ شملہ پہاڑی لاہور کے قریب امریکن کونسل کا دفتر بن رہ تھا۔ اس میں شامل ہوا۔ کام کی تکمیل کے تنازعہ میں امریکہ کی عدالت میں فیصلہ ہو رہا تھا۔ عدالت نے معاملہarbitrator کے سپرد کیا۔ میرے دوست نے ایک غیر مسلم امریکن کو arbitrator پسند کیا، کسی مسلمان پاکستانی کو نہیں اور فیصلہ پر مطمئن رہا۔ اب امریکن حکومت کا معیار تو ہمارے نزدیک غیر جانبدار نہیں ہو سکتا لیکن عدالت کی بات اور ہے ان کی شہرت اچھی ہے۔ وہ حکام اور حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے اور انصاف سے غرض رکھتے ہیں۔ ابھی انہوں نے ہمارے چیف جسٹس افتخار چودھری کو امریکہ میں ہاتھوں ہاتھ لیا تھا کہ وہ حکومت کے دباو میں نہیں آئے تھے تو اس صورتحال میں ہمیں یک گو نہ اطمینان رکھنا چاہئے اور امریکن عدالت پہ اعتماد ظاہر کرنا چاہئے۔ اگر حکومتی فیصلہ عدالتی فیصلہ سے مختلف نہ ہو تو پھر احتجاج برحق ہے۔ اِعدِلو (انصاف کرو) تو خدائی فیصلہ ہے۔ آئیں ہم بھی انصاف کے طرفدار ہوں۔ معین الحق 042-5164587
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter