تازہ ترین:

خدا بیماری سے بچائے یا اٹھا لے

ـ 9 فروری ، 2010
مکرمی۔ بیماری تکلیف درد کا وہی جانتا ہے جس پر گزر رہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبان کی فیس، دوائیاں کنوینس غرضیکہ آدمی نہ صرف مریض ہوتا ہے بلکہ مستقل مریض ہو کر رہ جاتا ہے۔ بھلا بتائیے ایک معمولی سے وظیفہ اور محض 5777 روپے پنشن میں اتنی مہنگائی بال بچے والے آدمی کا کیا بنتا ہے۔ میں جہاں معدہ نیورو کا مریض تھا اب پیشاب کا بھی مریض ہو گیا ہوں جو کنٹرول نہیں ہوتا۔ اخباری حضرات نے میری بڑی مدد کی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ۔ نوازشریف جن کے ساتھ میں کرکٹ کھیلنا تھا پیر آفتاب شاہ جیلانی جو سندھ کے کپتان تھے ان کے ساتھ کھیلنے کا شرف ہزاروں شاگرد جن کی نہ صرف میں نے مالی معاونت کی بلکہ وہ باہر کے ممالک میں نہ صرف کرکٹ کھیل رہے ہیں بلکہ اپنے غریب خاندانوں کے لئے کما بھی رہے ہیں ۔ 1997ءمیں مسلم کمرشل بنک سے ریٹائرمنٹ میڈیکل گرا¶نڈ پر بسنے والا ہنس مکھ محفل کی رونق طاہر شاہ آج چڑچڑا پیسہ کے لئے بے تاب ان شاگردوں جن میں گارڈ فلٹر کے مالک ملک شہباز کے دو بیٹے ملک شاہ جہاں اور ملک شاہ زین بھی شاگرد ہیں جو جھاڑو سے اپنی آمدنی کو اکٹھا کرتے ہیں انہوں نے بھی نہ پوچھا۔ رہی بات اعجاز بٹ کی تو اس نے تو مجھ جیسے پڑھے لکھے کرکٹ شناس حقیر مفلس غریب دوست کو لات ماری ہے۔ آج جہاں ہوں بیمار ہوں مفلس ہوں پریشان ہوں یا زمانے سے نفرت کرنے لگا ہوں یہ سب اسی کی بدولت ہوں خدارا میری تمام باتیں حقیقت ہیں میں کوئی بھکاری نہیں ہوں۔ خدا کسی کو برا وقت نہ دکھائے۔ اللہ سب کو برے وقت اور بیماری سے بچائے یا اسے دنیا سے اٹھا لے۔طاہر شاہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر لاہور 03334226761:
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں