عوامی اختیارات کہاں گئے؟

ـ 9 فروری ، 2010
مکرمی! لوکل گورنمنٹ کا نظام 2001ء میں نافذ ہوا۔ اب دانیال عزیز ناظمین سمیت اس نظام کے تسلسل اور بقاءکے لئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں راقم ان کی توجہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 ء شق نمبر 93 کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے۔ جس کے تحت دیہی و محلہ کو نسلیں تشکیل پانا تھیں ق لیگ کو 8 سال ملے لیکن یہ مرحلہ طے نہ ہوا۔ اس لئے کہ اگر یہ ہو جاتا تو چند ایک امور 99 فیصد شہریوں کے حصے میں آ جاتے اور ان معاملات کو نبٹانے میں وہ ناظمین کے محتاج نہ رہتے۔ لیکن نظام کے بڑوں کو عوامی مفاد منظور نہ تھا لہذا یہ کام نہ ہو سکا۔ اب موجودہ قیادت کا وژن بھی ڈھکا چھپا نہیں جو ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر کے اختیارات کے نچلی سطحوں پر منتقلی کے قانون کی بساط لپیٹنا چاہتی ہے۔ مرادی یہ ہے کہ شہریوں کو تھوڑی بہت خود مختاری ملنے کا امکان تھا وہ بھی ختم ہو جائے گا نیز عوام کو خدمات کی فراہمی کے اختیارات جو خدا خدا کر کے شملہ پہاڑی کی سطح تک آئے تھے کوہ ہمالیہ سطح پر واپس چلے جائیں گے۔ (خالد محمود 0333-4565189 )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter