معصوم بچوں سے جبری مشقت کروانے والے والدین بھی مجرم ہیں

ـ 9 فروری ، 2010
مکرمی! 12 سالہ شازیہ کیس میں ایک معصوم بچی نے ان دیکھے حالات میں اپنے والدین کے فرائض کی غفلت اور لاپرواہی سے اپنی جان سے ہاتھ دھوئے‘ راقمہ بطور وکیل کسی کو Defend نہیں کر رہی ہمارے ملک میں ہر روز ہزاروں نہیں لاکھوں غریب‘ لیکن اپنے فرائض سے لاپرواہ اور غفلت برتنے والے والدین اپنے 3/4 سال سے لے کر 14 سال سے کم عمر کے بچوں سے جبری مشقت کرواتے ہیں۔ ایسے والدین کو صرف اور صرف معصوم بچوں کی محنت سے ملنے والی تنخواہ یا پیسے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی پرورش و تعلیم و تربیت اور مستقبل سے اتنے غافل ہوتے ہیں کہ انہیں اس چیز سے بھی سروکار نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس گھر میں کہاں کس کے پاس رہ رہے ہیں۔ غریب ہونا جرم نہیں لیکن غربت کی وجہ سے اپنی ہی پیدا کردہ اولاد کی زندگی برباد کر کے مزید غربت کا استحصال کرنا جرم ہے۔ ہمارے ارد گرد روزانہ ہزاروں معصوم بچے بھیک مانگتے و جوتے پالش کرتے‘ ہوٹلوں‘ دکانوں و گھروں میں کام کرتے ہیں جو خود اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے وہ زندگی اور اپنے والدین کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اور بعض اوقات برداشت سے زیادہ بوجھ اور ظلم اٹھانے کی وجہ سے اس دار فانی سے کوچ کر جاتے ہیں حکومت نئے قوانین اور ضابطوں کے ذریعے والدین کو پابند کرے کہ وہ معصوم بچوں کو محض غربت کی آڑ میں بے رحم حالات اور بے حس انسانوں کے در پر نہ چھوڑے اس ضمن میں حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ فلاحی ریاست کے تصور کو سچ کرنے کے لئے ہر پاکستانی بچے کی مناسب کفالت اور تعلیم کا بندوبست کرے۔
کہ شاید معصوم بچے حقیقت میں اپنا بچپن گزار سکیں(فوزیہ بشیر 0333-4423312 )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter