کراچی، عدلیہ اور فوج
ـ 8 فروری ، 2012
مکرمی! کچھ سیاسی پارٹیوں اور بھتہ خور عناصر کی طرف سے ایک دفعہ پھر شہر کراچی کو خون میں نہلایا جا رہا ہے۔ دن دیہاڑے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو گولیوں سے بھون کے ان کے تڑپتے لاشے چوراہوں پر پھینک دئیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت سمیت قانون نافذ کرنے والے سب ادارے ان حالات کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس طاقتور مافیا کے آگے حکمرانوں سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے عدلیہ اور فوج بھی بے بس ہے۔ اب اللہ رب العالمین کی ذات ہی ہے جو اہل کراچی کو ان ظالم لوگوں سے نجات دے سکتی ہے۔(حافظ ذوہیب طیب لاہور)
عدلےہ کی آزادی کا تحفظ
مکرمی! عدلےہ آزاد ہو چکی ہے اب عدلےہ کی آزادی کی تحرےک نہےں بلکہ اس کی آزادی کو بچانے کے لئے جنگ کرنی ہے ۔مےڈےا سول سوسائٹی وکلا¿ عوام اور خود عدلےہ سب نے مل کر عدلےہ کی آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔ عدلےہ کی آزادی کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر بھی اتنی ہی ہے کےونکہ آزاد عدلےہ ہی ملک مےں جمہورےت کی ضامن ہوتی ہے جبکہ حکومت کرپشن مےرٹ اور گورنس سے متعلقہ بڑے بڑے فےصلوں کو حےلے بہانوں سے ٹرخا رہی ہے جو کہ نہ صرف جمہورےت دشمنی بلکہ حکمرانوں کی خود سے دشمنی بھی ہے۔ ( رانا زاہد اقبال فےصل آباد موبائل:0323-9668220)
کرکٹ کے پنڈت ڈھیر!
مکرمی! قومی کرکٹ ٹیم کی دنیائے کرکٹ کے پنڈت انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز میں متحدہ عرب امارات کے صحرا میں وائٹ واش ایک عظیم کامیابی ہے۔ دنیائے کرکٹ کے صف اوّل کی ٹیم اور بلے باز کہلانے والے کرکٹرو اگر تم سپن باﺅلنگ نہیں کھیل سکتے تو تمہیں کسی بھی صورت صف اوّل کی ٹیم اور بلے باز کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کرکٹ کے پنڈتو تمہارے پاس شکست کا صرف اور صرف ایک ہی جواز اور جواب ہے کہ تم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو متحدہ عرب امارات کو آئندہ کرکٹ سینٹر بننے ے روکو گے۔ پنڈتو جس طرح ہماری ٹیم میرے شاگرد مصباح الحق کی کپتانی میں یکجا اور متحد ہوئی ہے اس کا تمام کریڈٹ مصباح الحق کو جاتا ہے۔(طاہر شاہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر)
چراغ علم جلاﺅ.... بہت اندھیرا ہے
مکرمی! ضلع سرگودھاکے دورہ افتادہ دیہات بیربل شریف میں قائم ادارہ معین الاسلام گزشتہ تین دہائیوں سے دینی اور عصری علوم کے فروغ میں سرگرم عمل ہے۔ ادارہ میں دینی علوم حفظ، درس نظامی کے ساتھ عصری علوم پرائمری سے ایم اے تک کی تعلیم کا عمدہ نظام موجود ہے۔ سات سو سے زائد طلباءکا قیام و طعام مفت ہے۔ ملک عزیز میں ا س وقت وسائل سے محروم طبقہ کے لیے ایسے اداروں کی اشد ضرورت ہے جہاں معیاری تعلیم مفت ہو۔(قاضی عبدالرﺅف معینی)
محسن خان کو ہی کوچ رہنے دیں
مکرمی! میں پوری قوم کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ اس کے چیئر مین چوہدری ذکا اشرف قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور دیگر کھلاڑیوں کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں تاریخ ساز فتح پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں چیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ محسن خان کو ہی کرکٹ ٹیم کا کوچ رہنے دیں، پوری ٹیم کا ان کی قیادت پر مکمل اعتماد بھی ہے اور ان کا مورال بلندہے، غیر ملکی کوچ صرف اور صرف ایک، سٹیٹس کو کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔(چوہدری فرحان شوکت ہنجراک لاہور)
خوش آئند بات
مکرمی! عالمی طاقتوں نے اگلے چار پانچ سال میں جو نقشہ تیار کیا ہے اس میں خاکم بدہن پاکستان نظر نہیں آ رہا، تین چار سال سے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو کیوں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟ صاحبان اقتدار نے تو سب کچھ جانتے بوجھتے بھی اس سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں لیکن عوام میں بے چینی اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے۔ تاہم مایوسی کے ان اندھیروں میں خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھ کر اب حرکت میں آ رہے ہیں۔(شہباز احمد روشن بھلیہ، قصور)
خادم پنجاب کے نام
مکرمی! مورخہ 1-4-2011کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے 7فیصد گزارہ الاﺅنس ان تمام پنشنرز کو دینے کا حکم دیا جو 2001ءسے پہلے ریٹائرڈ ہو گئے تھے۔ باقی تینوں صوبوں نے اور وفاق نے یہ الاﺅنس دے دیا ہے لیکن سات ماہ سے صوبہ پنجاب اس کا نوٹیفکیشن نہیں کر رہا۔ 60 یا 70 سال سے اوپر والا انسان بونس پر ہوتا ہے۔ ہمارے پاس تو دل میں سٹنٹ ڈلوانے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔ اس لیے اس سے پہلے کہ بوڑھے پنشنرز آنکھیں بند کر لیں، انہیں ان کا حق ان کی زندگی میں ہی دیا جائے۔(رانا محمد طفیل، مکان نمبر261زیڈ بلاک فرید ٹاﺅن، ساہیوال)
ارفع کی یادگاری ٹکٹ
مکرمی! 18 جنوری 2012ءکے روزنامہ نوائے وقت میں ایڈیٹر کی ڈاک میں پیاری بیٹی ارفع کی صلاحیتوں کی قدر کرتے ہوئے میں نے محکمہ ڈاک کو ارفع کا یادگاری ٹکٹ شائع کرنے کی درخواست کی تھی۔ 2 فروری 2012ءکو اس مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر ٹکٹ جاری کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ محکمہ ڈاک آئندہ بھی ایسے کئی ٹکٹ جاری کر سکتا ہے جس کی یقینی شاباش کا مستحق ہو گا۔(ساجدہ حنیف لاہور)
”جوہر ٹاﺅن اور پل“
مکرمی! لاہور کے ہر علاقے میں پیدل سڑک پار کرنے کیلئے پل تعمیر کئے جا رہے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ میں پنجاب حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جوہر شادی ہال سٹاپ کے قریب پل تعمیر کروا دیں کیونکہ یہاں کے لوگوں کو سڑک پار کرنے میں بڑی مشکل در پیش آ رہی ہے۔(طارق رومیو، جوہر ٹاﺅن، لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں