تازہ ترین:

کیا یہ کھلا تضاد نہیں!!

ـ 8 فروری ، 2010
مکرمی! چیز کتنی بھی معیاری کیوں نہ ہو مناسب دیکھ بھال کے بغیر اس کی پائیداری اور خوبصورتی دیرپا نہیں رہ سکتی یہی وجہ ہے کہ شمالی لاہور کی اکثر سڑکیں مدت مقررہ سے پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بعد میں ایک لمبی مدت تک ان پر سے جمناسٹک کرتے گزرنا پڑتا ہے اگر پوچھا جائے کہ یہ کب ٹھیک ہونگی تو ایک ہی مسکت جواب ملتا رہتا ہے۔ درخواست دی ہے ٹینڈر ہو گیا ہے، جلد شروع ہو جائے گی، بس اب جون تک لازمی بن جائے گی لیکن دو ایسی سڑکیں جو مزید تاخیر سے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں پہلی اپروچ روڈ تاجپورہ ہاوسنگ سکیم از نہر تا تاجپورہ پنڈ دوسری خواجہ احسان روڈ از عقب VRI تا ہربنس پورہ روڈ لاہور کینٹ۔ ان علاقوں کے رہائشی بھول چکے ہیں کہ یہ کب بنی تھیں۔ جن کا معائنہ کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے۔ احسان روڈ پر تو سامان سے بھرے ٹرک، ٹریکٹر ٹرالی الٹے ہوئے دیکھنے میں آئے ہیں۔ جب بیڈ فورڈ پر کنٹینر جاتے ہیں تو خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے حکومت کو ان علاقوں کے رہائشیوں سے کوئی واسطہ نہیں پوش ایریا میں تو موٹر سائیکل رکشہ جانے کی اجازت نہیں رات کو ہوا بارش آئی صبح دوپہر سے پہلے درختوں سے گرے پتے بھی اٹھا لئے جاتے ہیں۔اگر کسی وجہ سے سڑک توڑنا پڑے تو دوسرے دن مرمت ہو جاتی ہے۔ اب تو سنا ہے کچھ علاقوں کو سائیلنس زون قرار دیا جا رہا ہے کیا اول الذکر کا کوئی حق نہیں جن علاقوں کی اتنی دیکھ بھال کی جاتی ہے وہ الیکشن میں ووٹ ڈالنا کسر شان سمجھتے ہیں۔ بتائیں ! کیا یہ کھلا تضاد نہیں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان سڑکوں پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔ فیاض قادری جنرل سیکرٹری انجمن دارالکخالہ نمبر 50 سالہ تاج پورہ ہا¶سنگ سکیم لاہور کینٹ0333-4839207
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں