درندوں کو عبرتناک سزا دی جائے
ـ 7 جولائی ، 2009
مکرمی! لفظ پاکستان کے لغوی معنی پاک لوگوں کی سرزمین ہے یہ مملکت خداداد حاصل ہی اس مقصد کے لئے کی گئی تھی کہ یہاں پر اسلامی قانون اور شریعت نافذ کی جائیگی اور ایک ایسی قوم تیار کی جائے گی جو اس پاک ملک کے نام کی طرح پاکیزہ اور صاحب کردار ہو۔ لیکن جب میں اردگرد دیکھتی ہوں تو میرے سامنے بہت سے سوالات آن کھڑے ہوتے ہیں کہ ہمارے اس پیارے ملک میں شیطان صفت درندے آخر کیوں دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوم اور بے بس لوگ گھروں میں ڈرے سہمے بیٹھے ہیں یہ لوگ انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں آخر کیوں؟ یہ درندہ صفت لوگ ہمارے ملک کی معصوم بچیوں تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے اور پھر قتل کر دینے سے نہیں چونکتے اور یہ معصوم بچیاں عمر بھر کے لئے ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ جو بچ جاتی ہیں وہ کس حد تک معاشرے میں کوئی مقام حاصل کر پاتی ہیں آپ ہی بتائیں کہ کیا معاشرہ ایسی بچیوں کو قبول کرتا ہے؟ جواب ملے گا کہ نہیں؟ تو میں پوچھتی ہوں کہ کیوں؟ وہ بچی‘ لڑکی یا معزز خاتون خود تو اپنی عزت نیلام کرنے کے لئے نہیں گئی تھی تھی ناں وہ خاتون جو زیادتی کے بعد خدانخواستہ زندہ بچ بھی جائے تو اگر کنواری ہے تو اس کے ساتھ اس کے گھر والے‘ اگر شادی شدہ ہے تو اس کے بچے تمام عمر کے لئے جیتے جی مر جاتے ہیں۔ مجرم کی بجائے الٹا مظلوم خود کو گہنگار سمجھنا شروع کر دیتا ہے کیا اخبارات کی حد تک ہی ان کو دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے‘ میڈیا کی تو خیر حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ مظلوم کی داد رسی کی جائے اور اعلیٰ حکام تک ان کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ گذشتہ دنوں ایک ایسا ہی دل ہلا دینے والا واقعہ زمان ٹائون کراچی میں پیش آیا جہاں4 سالہ معصوم ثناء کو ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد زندگی سے بھی محروم کر دیا۔ معصوم ثناء تو زندگی کی بازی ہار گئی لیکن اس کے والدین تو ساری عمر اس کی معصوم کلکاریوں کو یاد کر کے روز جیتے اور روز مرتے رہیں گے۔ اخبار میں چھپنے والی خبر آپ ہوں یا میں یا کوئی اور قاری چند منٹ خبر پڑھے گا اور افسوس کا اظہار کرے گا اور دوسری خبر پر نظریں جما لے گا لیکن وہ احساسات‘ جذبات اور غم جو اس بچی یا خاتون کے لواحقین برداشت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اس کا اندازہ تو کوئی بھی نہیں لگا سکتا۔ میرا سوال ان تمام علماء کرام‘ معززین اور حکومت وقت سے ہے کہ اسلام میں ان سفاک اور درندہ صفت انسانوں کے لئے جو سزائیں موجود ہیں ان پر سختی سے عملدرآمد کیوں نہیں کیا جاتا ان لوگوں کو ایسی عبرتناک سزا کیوں نہیں دی جاتی جو دوسروں کے لئے عبرت ہو۔ علماء کرام ایسے گھنائونے واقعات کیخلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے کوئی تحریک کیوں نہیں چلاتے۔ علماء کرام سیاست کے علاوہ ان معاشرتی برائیوں کیخلاف کوئی فتویٰ جاری کیوں نہیں کرتے ان جرائم کے پیچھے محرکات کیا ہیں ان کا جائزہ لے کر کوئی مثبت حل تلاش کیوں نہیں کرتے‘ مجرمان کے ذہن غلط حرکات اور گناہوں کی طرف راغب کیوں ہوتے ہیں یہ اور اس جیسے کئی واقعات روز ہی میڈیا کے ذریعے ہماری نظروں سے گزرتے ہیں لیکن ان کا کوئی دیرپا حل کیوں نہیں نکلتا ہم لوگ اس پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے افراد کے بھی جرم پر اکسانے والے محرکات کو ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے آخر کیوں؟ میں نہیں جانتی کہ جو میں نے محسوس کیا اور جس وجہ سے اس واقعہ کے بارے میں لکھنے پر مجبور ہو گئی وہ دوسروں پر کیا اثر چھوڑے گا لیکن شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات (فوزیہ شیخ لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں