”باچا خاں ائرپورٹ“ یہ باچا خان کے ساتھ زیادتی ہے
ـ 7 فروری ، 2012
مکرمی! میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ خیبر پی کے کی صوبہ سرکار نے پشاور ائرپورٹ کا نام ”باچا خاں ائرپورٹ“ رکھ دیا ہے۔ یہ باچا خاں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ وہ سرحدی گاندھی تھے اور مرتے دم تک رہے۔ انہوں نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی اور مرنے کے بعد بھی پاکستان میں دفن ہونا پسند نہ کیا۔ وہ افغانستان میں مدفون ہیں۔ ان کا پوتا ان کی روح کو کیوں تڑپانا چاہتا ہے؟ دادا کے حال پر رحم کرے۔(الفا خاں)
چیف جسٹس آف پاکستان ۔ جوڈیشل ایکٹو ازم ؟
مکرمی ! جوڈیشل ایکٹو ازم کے معنی فرسٹ کم، فرسٹ آ¶ٹ نہیں؟ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ سپریم کورٹ نے اصغر خان کی پٹیشن کی سماعت کے لئے 29 فروری 2012ءکے ممکنہ تاریخ طے کی ہے تاہم سماعت کے تعین کا حتمی فیصلہ بنچ کی دستیابی کے بعد ہو گا۔ چودھری صاحب اصغر خان کی پٹیشن کو دائر کئے ہوئے پہلے ہی سولہ برس ہو گئے ہیں این آر او اور میمو گیٹ کی طرح اصغر خان کی پٹیشن کو بھی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے لئے بنچ تشکیل دیں اور اس پٹیشن کا جلد سے جلد فیصلہ سُنا کر سیاست کے میدان سے کالی بھیڑوں کا صفایا کریں۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین! (رانا ریاض احمد ۔ ساہیوال، فون 0321-6907357)
مواخزہ کو استثنیٰ حاصل نہیں
مکرمی ! تاریخ عالم گواہ ہے کہ اسلام و کفر میں سربراہوں کو ماخذے کا استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ سربراہوں کی کوتاہیاں اور قصور ثابت ہونے پر ہر کسی پر فرم جرم لگایا گیا اور باضابطہ سزائیں دی گئیں۔ 1032ھ میں سلطنتِ عثمانیہ کے مشہور سلطان مراد نے اپنے ہاتھ کٹوانے کے لئے اپنے آپ کو قاضی القضاة کے روبرو پیش کر دیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس نے اپنے دارالسلطنت میں ایک عالیشان مسجد تعمیر کروائی تھی۔ معائنہ کرنے پر اسے کچھ نقص دکھائی دئیے تو سلطان نے جلال میں آ کر معمار کا ہاتھ کٹوا دیا۔ معمار عدالت چلا گیا۔ قاضی نے فردِ جرم عائد کر کے سلطان کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ جلاد کاٹنے ہی لگا تھا کہ معمار نے جلاد کا ہاتھ پکڑ لیا اور قاضی سے عرض کی کہ وہ بادشاہ کو معاف کرتا ہے۔ اسلام میں اس طرح کی معافی و دیت جائز ہے۔ اب ذرا کفرستان کی طرف جھانکئے گا۔ ویانا کنونشن کی موجودگی میں اعلیٰ شخصیات کا استثنیٰ قبول نہیں کیا گیا۔ دو امریکی صدور نکسن اور کلنٹن کے سکینڈل انہیں سزا¶ں سے نہ بچا سکے تھے۔ اسی طرح اٹلی کے وزیراعظم برلسکونی کو اپنے خلاف عدالت میں سامنا کرنا پڑا۔ بدعنوانی ثابت ہونے پر بالآخر وہ مستعفی کئے گئے۔ (چودھری نور احمد نور پرنسپل (ر) ۔ گوجرانوالہ)
خادم اعلیٰ پنجاب سے اپیل
مکرمی! میں کاراگجراں زیب روڈ جہلم کے محلہ حسن آباد میں رہتا ہوں ہمارے گھر کی مین روڈ عرصہ تیس سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے بارشوں کے دنوں میں یہ روڈ پانی سے بھر جاتا ہے۔ کئی معزز افراد کچے اور ٹوٹے روڈ کی وجہ سے بر وقت ہسپتال نہ پہنچ سکے اور جہان فانی سے کوچ کر گئے، یہ روڈ چونکہ گرد و نواح کے علاقوں کا مین روڈ ہے جو اسے جی ٹی روڈ سے ملاتا ہے اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے ہماری درخواست پر وزیر اعلیٰ صاحب نے روڈ کی تعمیر کیلئے 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اخبارات ٹی وی نہ بڑی بڑی خبریں چلائیں ریت بجری بھی آ گئی لیکن چند دنوں کے بعد پتہ چلا کہ فنڈز کی کمی کے باعث تعمیر روک لی گئی ہے اور یوں رفتہ رفتہ ریت بجری کے ڈھیر خود بخود پانی اور بارش سے بہتے چلے گئے اور عوام کا خواب ادھورا رہ گیا۔ خادم اعلیٰ صا حب کیا یہ خواب پورا ہو سکتا ہے....؟ (ذیشان آفتاب، زیب روڈ کاراگجراں، محلہ حسن آباد جہلم)
شیطان کا سخت کارگر حملہ
مکرمی! بدعت شیطان کا بہت ہی سخت اور کارگر حملہ ہے‘ کیونکہ وہ غیردین کو دین کے لباس میں سجا دیتا ہے۔ آدمی اسے دین سمجھ کر اس پر عمل پیرا رہتا ہے۔ اس پر اجرو ثوات کا امیدوار بنا رہتا ہے اور جب وہ اسے عبادت اور دین سمجھ کر کرتا ہے تو اس سے بھلاکیوں کر توبہ کرے گا.... اگر کوئی شخص جھوٹ‘ چوری‘ رشوت وغیرہ ایسے گناہوں میں مبتلا ہو تو کسی نہ کسی وقت اس کے توبہ کرنے اور گناہ چھوڑنے کی امید کی جا سکتی ہے‘ لیکن جب کسی ناجائز کام کو وہ عبادت سمجھتا ہو تو وہ اس سے توبہ کیوں کرے گا اور کیوں اسے چھوڑے گا۔ بلکہ دن بدن اس میں ترقی کرے گا۔ اس طرح بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ نہیں بلکہ وہ اپنے عمل بد سے خود اپنے لئے توبہ کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی کیلئے توبہ کے دروازے بند کر دیئے ہیں‘ نیز ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ ”جس شخص نے کسی بدعتی کی تکریم کی اس نے گویا ہادمِ اسلام کی مدد کی“ فضیل بن عیاضؓ کہتے ہیں ”جو شخص بدعتی کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اعمال ضبط کر لیتا ہے اور اس کے دل س اسلام کا نور نکال لیتا ہے“ آج ہم اپنے معاشرے کا چلن دیکھ لیں .... اللہ پاک ہمارے احوال پر رحم فرمائے (آمین ثم امین)شبر علی چنگیزی 0321-3177967
مجھے سینیٹر بنانے کا وعدہ پورا کیا جائے
مکرمی! ادریس تاج قتل ہوا تو تحصیل شکر گڑھ میں اس کا بھائی اشفاق تاج اپنے بھائی کی جگہ پر امیدوار نامزد ہوا تو میں نے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کرا دئیے تاہم غلام حیدر وائیں کے کہنے پر کاغذات واپس لے لئے اس کے بعد صدر کے خلاف رٹ دائر کی تو رفیق تارڑ کی موجودگی میں شجاعت نے وعدہ کیا معذوروں کی نمائندگی کے لئے مجھے سینٹ کے لئے نامزد کیا جائے گا۔ میں نے گارنٹی مانگی تو شجاعت مجھے نواز شریف کے پاس ماڈل ٹا¶ن لے گئے وہاں پر موجود شہباز شریف نے میرے ساتھ حلفاً وعدہ کیا کہ آئندہ سینٹ الیکشن میں پورے پاکستان میں معذوروں کے لئے ایک سیٹ پر نامزد کیا جائے گا۔ اس کے بعد رٹ واپس لے لی۔ شجاعت اور شہباز شریف مجھے سینیٹر بنانے کا وعدہ پورا کریں۔(محمد ابراہیم بلال ولد محمد حسین ظفروال)331-9679978)
وزیر اعلیٰ سٹینو گرافرز کے سکیل اَپ گریڈ کریں
مکرمی! فنانس ڈویژن اسلام آباد نے سپریم کورٹ کے حکم پر بذریعہ نوٹیفکیشن مورخہ 23-12-2011 سے سٹینو گرافرز/ پرائیویٹ سیکرٹری کے عہدوں کو اَپ گریڈ کر دیا ہے، اور نوٹیفکیشن کی کاپیاں تمام صوبوں کے متعلقہ چیف سیکرٹری/ فنانس سیکرٹری کو عمل درآمد کیلئے باضابطہ طور پر پہنچ گئی ہیں لیکن ابھی تک پنجاب کے صوبائی سٹینو گرافرز/ پرائیویٹ سیکرٹری کو اَپ گریڈ نہیں کیا گیا، جبکہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ صاحب سے درخواست ہے کہ فنانس ڈویژن اسلام آباد کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی سٹینو گرافرز/ پرائیویٹ سیکرٹری کو اَپ گریڈ کیا جائے۔(محمد شفیق، سٹینو گرافر، واساLDA لاہور۔ 0300-4649502)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں