تازہ ترین:

کیا ان پر کوئی قانون یا ضابطہ اخلاق لاگو نہیں ہوتا

ـ 7 فروری ، 2010
مکرمی! کل رات ٹی وی کے کسی چینل پر مشاہد حسین بہت جوش و جذبے سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں زبردست تقریر فرما رہے تھے۔ یہ مشرف کے جوتے چاٹنے والے چودھری برادران‘ مشاہد شیخ رشید‘ خورشید قصوری‘ شیرافگن‘ اعجاز الحق ہمایوں‘ برداری سیف اللہ فیملی کے چشم و چراغ اور ان جیسے بہت اور۔ اب جو مرضی کریں ان کے چہرے سے یہ سیاہی نہیں ڈھل سکتی جو انہوں نے مشرف کا ساتھ دے کر افغانستان اور عراق کے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ جب ڈاکٹر عافیہ کو مشرف امریکہ کے ساتھ بیچ رہا تھا تب بھی مشاہد نے اسی جوش سے مشرف کا ساتھ دینے کے لئے تقریر کی ہو گی اور لال مسجد کے اوپر حملے کے وقت بھی ایسا ہی ڈرامہ رچایا ہو گا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ یہ سب دوبارہ اقتدار میں بھی آ جائیں گے لیکن مسلمانوں کا خون ان کے گلے پر رہے گا۔حیرت یہ بھی ہے کہ نظریہ پاکستان جیسے اداروں میں مشاہد حسین جیسے لوگ اب بھی وہی قدر و منزلت پا رہے ہیں جو خادم پاکستان کو ملنی چاہئے۔ کچھ اس بارے میں بھی سوچا جائے۔ ( حیدر حسن (ریٹائرڈ)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں