مرد حُر کے نام

ـ 4 فروری ، 2012
مکرمی! میری اور قوم کی مرد حر جناب زرداری صاحب صدر پاکستان کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ کی مفاہمت کا کوئی توڑ نہیں۔ آپ کے پاس جادوگری کا انمول تحفہ ہے آپ روٹھے ہوئے لوگوں کو منانے کا مضبوط اور نادر گُر جانتے ہیں۔اگر آپ ایسے ہی گُر سے کالا باغ ڈیم کے خلاف روٹھے ہوئے لوگوں میں پاکستان کی بقائ، خوشحالی، معاشی استحکام کا جذبہ پیدا کر کے ان کی ہٹ دھرمی کو ختم کر دیں تو آپ یقیناً امر ہو جائیں گے اور آپ کے سابقہ گناہ دھل جائیں گے۔
(میاں عبدالحمید، 70-B ملک انور روڈ سول لائن، شیخوپورہ)
خادم اعلیٰ کی خدمت میں درخواست!
مکرمی! خادم پنجاب نے ایک لاکھ لیپ ٹاپس طلباءکو دینے کا وعدہ کیا ہے جو کہ ایک نہایت احسن قدم ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کی خاطر اور اپنے والدین کا دست بازو بننے کی خاطر اپنے تعلیمی کیریئر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کسی ادارے میں ملازمت بھی کر رہے ہیں ان کو لیپ ٹاپس بھی دیئے جائیں۔
(عقیل احمد، ایم فل (ریسرچ سکالر)، پنجاب یونیورسٹی لاہور (0321-4983818
”اہل علم“ سے استدعا
مکرمی! خاندانی الجھنوں میں پریشان ہوں۔ کہتے ہیں یہ سفلی عمل یعنی جادو ٹونا کا اثر ہے کوئی صاحب علم رہنمائی فرمائے۔
رابطہ رانا، 44 شاہ فیصل روڈ سیٹلائٹ ٹا¶ن، سیالکوٹ 51310
خستہ حال سڑکیں
مکرمی! علاقہ برکت ٹا¶ن ونڈالہ روڈ شاہدرہ لاہور میں برکت ٹا¶ن نہر کی دونوں سڑکیں بالکل خستہ حال ہیں۔ حکومت پنجاب سے اپیل ہے کہ ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے۔
(کنزا کرم، برکت ٹا¶ن، شاہدرہ، لاہور)
ڈی سی او ساہیوال کے نام
مکرمی! ہمارے گاﺅں میں ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے بالخصوص بازاروں میں سے گزرنے کی جگہیں تو نصف سے بھی کم رہ گئی ہیں اس صورت حال کے باعث لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔ ہم ڈی سی او ساہیوال سے درخواست کرتے ہیں کہ ان ناجائز تجاوزات کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر مسمار کر دیا جائے تاکہ لوگ بازاروں میں سے بآسانی گزر سکیں اور کسی خون خرابے یا سانحے کی نوبت نہ آئے۔
(اہلیان دیہہ چک نمبر62/4-R تحصیل و ضلع ساہیوال)
انا کا مسئلہ
مکرمی! چوہدری شجاعت حین سینیٹر نے اپنی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک حالیہ کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی (مرحوم) ہمیشہ ہم پر اعتماد کرتے تھے، ”ق“ لیگ ان کی قاتل نہیں ہو سکتی! مگر ہم ان سے پوچھنے کی جسارت کریں گے کہ جب ڈکیٹیٹر پرویز مشرف کی ہدایات لیکر یہ دونوں صاحبان ڈیرہ بگٹی گئے تھے، تو انہوں نے نواب صاحب کو اعتماد میں لیتے ہوئے کیوں نہ منا لیا؟ حالانکہ نواب صاحب کا موقف بالکل واضح اور درست تھا، درحقیقت مشرف نے اپنی انا کا مسئلہ بنا رکھا تھا جس سے ان دونوں صاحبان کے ذریعہ نواب موصوف کو ڈرایا، دھمکایا گیا کہ اگر تو اکبر بگٹی ایوان صدر میں آ کر اس کے پاﺅں پکڑ لے تو ٹھیک ورنہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہے۔
(میاں خالد اختر کُرڑ، چک چٹھہ 0331-6416877)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں