قومی کرکٹ ٹیم میں چھانٹیوں کی ضرورت
ـ 3 فروری ، 2010
مکرمی! آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کی شرمناک شکست کی ذمہ داری پلیر پاور نے ایک مرتبہ پھر ٹیم میں انتشار پھیلانے والے کھلاڑی شعیب ملک ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سونپی۔ فواد عالم، خالد لطیف، خرم منظور، محمد یوسف، یونس کی خراب کارکردگی کے علاوہ ٹیم میں گروپ بندی اور ٹیم کے کھلاڑیوں کا ٹورز پر اپنی فیملیز کو لے کر جانا بھی بُری کارکردگی کا سبب ہے۔ قومی ٹیم کی کارکردگی کا مستقبل بہتر کرنے کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچہ کو درست کر کے پرانے کھلاڑیوں کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو آگے لانا ہو گا۔ وکٹ کیپر احمد سید فاسٹ باولر محمد ارشاد جنہوں نے 43 وکٹ لے کر ٹیم کی طرف سے زیادہ وکٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ نوید یاسین، عامر سجاد، ایوب ڈوگر، عثمان صلاح الدین جیسے کھلاڑیوں کو اوپر لانا ہو گا۔ جو کھلاڑی بدنیتی اور ذاتی کارکردگی کو ملکی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں ان کے لئے جلاوطنی کا اصول اپنانا چاہیے۔ میں یہ بات زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ محمد ارشاد کو ٹیم میں ڈالا جائے ساتھ ساتھ پی سی بی گورننگ باڈی کے میاں منیر اور شکیل شیخ سے خود پیچھا چھڑانا چاہیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو ہٹانے پر زیادہ توجہ مرتکز کرنے کی بجائے کلب کرکٹ اور مختلف عمروں کے ٹورنامنٹس کرائیں۔ قومی اکیڈیمی جو عیاش گاہ ہے علی ضیا انتخاب عالم ، عاقب جاوید شعیب ملک اور کامران اکمل سمیت پوری چھانٹی ہونی چاہیے۔ (طاہر شاہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر لاہور)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں